ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 257

تو عمر بھی وفا نہیں کرسکتی۔مباحثہ اصول پر ہونا چاہیے۱ جو بطوربحث کے ہیں۔اور چونکہ عام مجمعوں میں حق کو مشتبہ رکھا جاتا ہے انسان ضد اور تعصب سے کام لیتا ہے میں نے خدا سے عہد کر لیا ہے کہ اس طریق کو چھوڑدیا جاوے۔یہ کتاب۲ میں نے اصول مباحثہ کے لحاظ سے لکھی ہے۔اوراسی طریق سے جو میں نے پیش کیا ہے بحث کی ہے جو لوگ ہم کو گالیاں دیتے ہیں ہم ان کی گالیوں کا کوئی جواب نہیں دیتے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہم سے توگالیوں کی قوت ہی کھو دی ہے۔کس کس کی گالی کا جواب دیں۔۳ ۴ ۲؍مارچ ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر) مسیح موعودؑ کے ذریعہ خانہ کعبہ کی حفاظت ایک صاحب نے عر ض کیا کہ حضورمیرے ایک دوست نے لکھا ہے کہ تم تو حج کرنے البدرسے۔’’مناظرین نے لکھا ہے کہ فروعات میں بحث کرنا ہی فضول ہے۔فروعا ت کی مثال تو لشکر کی ہے جن کے افسر اُصول ہیں۔جب اصول میں فیصلہ ہوجاوے تو فروع میں خود ہو جاتا ہے جیسےجب افسر مارا جاوے توسپاہی خود تابع ہوجاتے ہیں۔میں کوئی بات نہیں کرتا جب تک خدا تعالیٰ اجازت نہ دے اگر میں نے مباحثہ میں جانا ہوتا تو کتاب (نسیم دعوت) شائع نہ کرتا۔،، (البدر جلد ۲نمبر ۸مورخہ ۱۳ ؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۸ کالم اوّل) ۲ (یعنی نسیم دعوت۔مرتّب ) ۳ البدر سے۔جب یہ آریہ صاحبان تشریف لے گئے توکچھ اَور صاحب آئے۔ان کے سوالات کا جواب حضرت اقدس نے ذیل کے مختصر فقرات میں دیا۔’’باوجود اختلافاتِ رائے کے حق کی رُو رعایت رکھنا اس بات کو آپ کتاب نسیمِ دعوت میں دیکھیں گے۔خدا نے اب ہم سے گالیوں کی قوت ہی دور کردی ہے اور نہ ہم ہر ایک کو الگ الگ جواب دے سکتے ہیں۔اب کروڑہا آدمی گالی دے رہے ہیں کس کس کو جواب دیویں۔میراتعلق آریہ سماج سے ہے نہ کہ وید سے کیونکہ وید سے میں واقف نہیں ہوں۔‘‘ (البدر جلد۲نمبر۸ مو رخہ ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵۸ ) ۴ الحکم جلد ۷ نمبر ۹ مو رخہ ۱۰ ؍ما رچ ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۲