ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 258

کو گئے ہوئے ہو مگر ہمیں بھلا دیا ہے۔۱ فرمایا۔اصل میں جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں ان کی خدمت میں دین سیکھنے کے واسطے جانا بھی اک طرح کا حج ہی ہے۔حج بھی خدا تعالیٰ کے حکم کی پابندی ہی ہے اور ہم بھی تو اس کے دین اوراس کے گھر یعنی خانہ کعبہ کی حفاظت کے واسطے آئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کشف میں دیکھا تھا کہ دجّال اور مسیح موعود اکٹھے طواف کررہے ہیں۔اصل میں طواف کے معنی ہیں پھرنا، تو طواف دو ہی طرح کا ہوتا ہے، ایک تو رات کو چور پھرتے ہیں یعنی گھروں کے گرد طواف کرتے ہیں اور ایک چوکیدار طواف کرتا ہے مگر ان میں فرق یہ ہے کہ چور تو گھروں کو لوٹنے اور گھروں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے اور چوکیدار ان گھروں کی حفاظت اور بچائواور چوروں کے پکڑنے کے واسطے طواف کرتے ہیں۔یہی حال مسیح اور دجّال کے طواف کا ہے۔دجّال تو دنیا میں اس واسطے پھرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تا دنیا کو خدا کی طرف سے پھیر دے اور ان کے ایمان کو لُوٹ لیا جاوے مگر مسیح موعود اس کوشش میں ہے کہ تا اسے پکڑے اور مارے اور اس کے ہاتھ سے لوگوں کے دین وایمان کے متاع کو بچاوے۔غرض یہ ایک جنگ ہے جو ہمارا دجّال سے ہو رہا ہے۔کا مل ایمان والے کو کسی نشان کی ضرورت نہیں ہوتی ایک صاحب نے عرض کی حضور کیا وجہ ہے کہ بعض لوگوں کو مبشرات کثرت سے ہوتے ہیں اور بعض کو بہت کم بلکہ بالکل ہی نہیں۔فرمایا کہ اصل میں اللہ تعالیٰ نے طبائع مختلف پیدا کی ہیں۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی ۱ البدر سے۔’’ایک شخص کی طرف سے اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَامِنْکَ جو حضرت کا الہام ہے اس پر اعتراض پیش ہو اتو فرمایاکہ اَنْتَ مِنِّیْ کے معنے ہیں کہ تیری نشوونما مجھ سے اور اَنَامِنْکَ یعنی جب خدا کی عظمت و جلال ایک وقت کم ہوجاتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ ایک بندہ کے ذریعہ اسے دُنیا پر ظاہر کرتا ہے چونکہ اس وقت خدائی کا جلوہ اس مامور کے ہاتھ سے ہوتا ہے اس لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تجھ سے ہوں یعنی میرا جلال تیرے ذریعے ظاہر ہوا۔‘‘ (البدر جلد۲نمبر۸ مو رخہ ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵۸ )