ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 252

تم نے کیوں ایسا نہ کیا؟ یہ بھی تم میں سے ہی تھا اور تمہاری طرح کا ہی انسان تھا چونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کا نام حجۃ اللہ رکھا۔آپ کو بھی چاہیے کہ آپ ان لوگوں پر تحریر سے تقریر سے ہر طرح سے حجت پوری کر دیں۔۱ اصل میں اس ساری قوم کی حالت قابل رحم ہے عیش وعشرت میں گم ہیں دنیا کے کیڑے بنے ہوئے ہیں اور فنا فی یورپ ہیں۔خدا سے اور آسمان سے کوئی تعلق نہیں۔جب خدا کسی کو ایسی قوم میں سے نکالتا اور اس کی اصلا ح کرتا ہے تو اس کا نام اس قوم پرحجت رکھتا ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَجِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيْدًا ( النِّسآء:۴۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا تھا۔اس نے کچھ کہا تھا تو آپ نے فرمایا بس کر۔اب تو میں اپنی ہی اُمّت پر گواہی دینے کے قابل ہو گیا ہوں۔مجھے فکر ہے کہ میری امت کو میری گواہی کی وجہ سے سزا ملے گی۔کلمۃ اللہ کی حقیقت حضر ت عیسٰیؑ کو اللہ تعالیٰ نے کلمۃ اللہ خصوصیت سے کیوں کہا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی ولادت پر لوگ بڑے گندے اعتراض کرتے تھے اس واسطہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان الزاموں سے بری کرنے کے لیے فرمایا کہ وہ تو البدر میں یکم مارچ۱۹۰۳ء کی سیر کے دوران کا ایک اَور ذکرہے جو الحکم میں نہیں۔لکھاہے۔عورتوں سے حُسنِ معاشرت ’’مستورات کا ذکر چل پڑا۔ان کے متعلق احمدی احباب میں سے ایک سربرآوردہ ممبر کا ذکر سنایا کہ ان کے مزاج میں اوّل سختی تھی۔عورتوں کو ایسا رکھا کرتے تھے جیسے زندان میں رکھا کرتے ہیںاور ذرا وہ نیچے اترتیں تو ان کو مارا کرتے لیکن شریعت میں حکم ہے عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النِّسآء:۲۰) نمازوں میں عورتوں کی اصلاح اور تقویٰ کے لیے دعا کرنی چاہیے۔قصاب کی طرح برتائو نہ کرے کیونکہ جب تک خدا نہ چاہے کچھ نہیں ہوسکتا مجھ پر بھی بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیںکہ عورتوں کو پھراتے ہیں۔اصل میں بات یہ ہے کہ میرے گھر میں ایک ایسی بیماری ہے کہ جس کا علاج پھرانا ہے جب ان کی طبیعت زیادہ پریشان ہوتی ہے تو بدیں خیال کہ گناہ نہ ہو کہا کرتا ہوں کہ چلو پھرالائوں اَور بھی عورتیں ہمراہ ہوتی ہیں۔پھر خدا تعالیٰ کے مکالمہ اور مخاطبہ کی نسبت ذکر پر فرمایا کہ ’’مجازی عدالتوں کی طرف سے جو ایک لقب انسان کو ملتا ہے تو اسے کتنا فخر ہوتا ہے۔ستارئہ ہند لقب وغیرہ بھی ملتے ہیں تو کیا اب حقیقت میں ان لوگوں میں وہ خواص ہوتے ہیں؟جو لقب ان کو ملتا ہے صرف استعارہ ہوتے ہیں۔‘‘ (البدر جلد۲نمبر۸ مو رخہ ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵۷ )