ملفوظات (جلد 4) — Page 18
کر جھاڑ کر آگے رکھ دیا کرتا تھا اور ایک بار مجھے اپنے مکان میں اس غرض سے لے گیا کہ وہ مبارک ہو جاوے اور ایک باراصرار کرکے مجھے وضو کرایا۔غرض بڑا اخلاص ظاہر کیا کرتا تھا۔کئی بار اس نے ارادہ کیا کہ میں قادیان ہی میں آکر رہوں۔مگر میں نے اس وقت اسے یہی کہا تھا کہ ابھی وقت نہیں آیا۔اس کے بعد اسے یہ ابتلا پیش آگیا۔کیا تعجب ہے کہ اس اخلاص کے بدلے میں خدا نے اس کا انجام اچھا رکھا ہو۔۱ اس پر ایک بھائی نے سوال کیاکہ حضور اب اسے کیسا سمجھیں۔فرمایا۔اب تو حکم حالت موجودہ ہی پر ہوگا۔وہ دشمن ہی اس سلسلہ کا ہے۔دیکھو! جب تک نطفہ ہوتا ہے اس کا نام نطفہ رکھتے ہیں گو اس کا انسان بن جاوے مگر جوں جوں اس کی حالتیں بدلتی جاتی ہیں اس کا نام بدلتا جاتا ہے۔علقہ مضغہ وغیرہ ہوتا ہے۔آخر اپنے وقت جا کر انسان بنتا ہے۔یہی حال اس کا ہے۔سردست تو وہ اس سلسلہ کا مخالف اور دشمن ہے اور یہی اس کو سمجھنا چاہیے۔پھر اس ضمن میں فرمایا کہ سزا اور عذاب صرف کفر ہی کے باعث نہیں آتا۔بلکہ فسق و فجور بھی عذاب کا موجب ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ ہمیشہ صادقوں ہی کی نصرت اور تائید کرتا ہے فرمایا۔کبھی کوئی جھوٹ اس قدر چل نہیں سکتا۔آخر دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بدی کرنے والے جھوٹے اور فریبی اپنے جھوٹ میں تھک کر رہ جاتے ہیں۔۱ البدر میں مزید یوں لکھا ہے۔’’یہ خدا تعالیٰ کے تقاضائے رحمت ہوتےہیں ایک کتاب میں میں نے دیکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک شخص بہروپیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی شکل پر سوانگ بنایا کرتا تھا جس وقت سب قوم فرعون کی غرق ہوئی تو وہ بچا رہا۔حضرت موسیٰ نے خدا تعالیٰ سے اس کا باعث دریافت کیا تو فرمایا کہ چونکہ یہ تیرے چہرے جیسا چہرہ بنایا کرتا تھا اس لئےہماری رحمت نے تقاضا نہ کیا کہ تیرے مثیل شکل کو غرق کریں۔‘‘ (البدر جلد ۱ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۲)