ملفوظات (جلد 4) — Page 239
اعتراض کیا مگر اب تو کچھ حد وحسا ب نہیں۔شراب پیتے ہیں، زنا کرتے ہیں، غرض کوئی بدی نہیں جو نہ کرتے ہوں مگر بایں ہمہ پھر اسلام پر اعتراض کرنے کو طیار ہیں۔۱ ۲۳؍فروری ۱۹۰۳ء (ظہر سے پہلے) بنی اسر ائیل اور ان کے مثیل فرمایا۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے فضائل میں اس قوم اسلام کو اُمّت مو سیٰ کا مثیل بنایا ہے ایسے ہی رذائل بھی کُل وہ اس قوم میں جمع ہیں جو ان میں پائے جاتے تھے۔یہ قوم تو یہود کے نقش قدم پر ایسی چلی ہے جیسے کوئی اپنے آقا ومو لیٰ مطا ع رسول کی پیروی کرتا ہے۔یہود کے واسطے قرآن شریف میں حکم تھا کہ وہ دود فعہ فساد کریں گے اور پھر ان کی سزا دہی کے واسطے اللہ تعالیٰ اپنے بندے ان پر مسلط کرے گا۔چنانچہ بخت نصر اور طیطوس دو نو نے ان لوگوں کو بُری طرح سے ہلاک کیا اور تباہ کیا۔اس کی مماثلت کے لیے اس قوم میں نمونہ موجود ہے کہ جب یہ فسق وفجور میں حد سے نکلنے لگے اور خدا کے احکام کی ہتک اور شعائر اللہ سے نفرت ان میں آگئی اور دنیا اور اس کی زیب وزینت میں ہی گم ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اسی طرح ہلا کو چنگیز خاں وغیرہ سے برباد کرایا۔لکھا ہے کہ اس وقت یہ آسمان سے آواز آتی تھی اَیُّـھَاالْکُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَّارَ غرض فاسق فاجر انسان خدا کی نظر میں کافر سے بھی ذلیل اور قابل نفرین ہے۔اگر کوئی کتاب قرآن شریف کے بعد نازل ہونے والی ہوتی تو ضرور ان لوگوں کے نام بھی اسی طرح عِبَادًا لَّنَا میں داخل کئے جاتے۔یہ بھی لکھا ہے کہ آخر کار بخت نصر یا اس کی اولاد بُت پرستی وغیرہ سے باز آکر واحد خدا پر ایمان لائی ہے اسی طرح ادھر بھی چنگیز خاں کی اولاد مسلمان ہو گئی۔غرض خدا نے مماثلت میں طَابِقُ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ والا صاف معاملہ کرکے دکھا دیا ہے۔۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۸ مو ر خہ ۲۸؍ــفروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴،۱۵