ملفوظات (جلد 4) — Page 236
قرآن شریف میں یہ ایک برکت ہے کہ اس سے انسان کا ذہن صاف ہوتا اور زبان کھل جاتی ہے بلکہ اطباء بھی اس بیما ری کااکثر یہ علاج بتا یا کرتے ہیں۔۱ ۱۶؍فروری ۱۹۰۳ء ۱۶؍فروری کی صبح کو سیر کے وقت فرمایا پرسوں یا ترسوں ایک الہام ہوا تھا وہ یہ ہے۔’’اے ازلی ابدی خدا بیڑیوں کو پکڑ کے آ‘‘۲ ۱۷؍فروری ۱۹۰۳ء ۱۷؍فروری ۱۹۰۳ء کو فجر کا الہام حضرت اقدس نے سیر میں سنایا۔’’یَوْمُ الْاِثْنَیْنِ وَفَتْحُ الْـحُنَیْنِ ‘‘ قرآن شریف میں بھی لفظ حنین کا آیا ہے جیسے کہ پارہ ۱۰ رکوع ۱۰ میںہے لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ١ۙ وَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْـًٔا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ۔ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِيْنَ۔۳ ۱۹؍فروری ۱۹۰۳ء ۱۹؍ فروری کو بوقتِ سیر فرمایا کہ کل ۱۸؍ فروری کو یکایک مرض کا دورہ ہوگیا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے۔اسی حالت ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۹ مو رخہ ۱۰ ؍ما رچ ۱۹۰۳ءصفحہ ۷ تا۹ ۲ الحکم جلد ۷ نمبر ۷ مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶ ۳ البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۹