ملفوظات (جلد 4) — Page 237
میں ایک الہام ہوا جس کا صرف ایک حصہ یاد رہا۔چونکہ بہت تیزی کے ساتھ ہوا تھا جیسے بجلی کوندتی ہے اس لیے باقی حصہ محفوظ نہ رہا وہ یہ ہے وَ یُبْقِیْکَ اس کا ترجمہ بھی اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی بتایا اور وہ یہ ہے تا بدیر ترا خواہد داشت۔۱ ۲۲ ؍فروری ۱۹۰۳ء کچھ حصہ رات کو آرام ضرور کرنا چاہیے ایک مخلص کی بد خوابی کے تذکرہ پر فرمایا۔دیکھو! قرآن شریف سورہ مزّمل میں صاف تاکید ہے کہ انسان کو کچھ حصہ رات آرام بھی کرنا چاہیے۔اس سے دن بھر کی کوفت اور تکان دور ہو کر قویٰ کو اپنا حرج شدہ ما دہ بہم پہنچانے کا وقفہ مل جاتا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل یعنی سنّت بھی اسی کے مطابق ثابت ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ اُصَلِّیْ وَ اَنُوْمُ۔اصل میں انسان کی مثال ایک گھوڑے کی سی ہے۔اگر ہم ایک گھوڑے سے ایک دن اس کی طاقت سے زیادہ کام لیں اور اسے آرام کرنے کا وقفہ ہی نہ دیں تو بہت قریب ایسا وقت ہوگا کہ ہم اس کے وجود کو ہی ضائع کرکے تھوڑے فائدہ سے بھی محروم ہو جائیں گے نفس کو گھوڑے سے مناسبت بھی ہے۔بہترین وظیفہ سیالکوٹ کے ضلع کا ایک نمبردار تھا۔اس نے بیعت کرنے کے بعد پوچھا کہ حضور اپنی زبان مبارک سے کوئی وظیفہ بتا ویں۔فرمایا کہ نمازوں کو سنوار کر پڑھو کیونکہ ساری مشکلات کی یہی کنجی ہے اور اسی میں ساری لذّات اور خزانے بھرے ہوئے ہیں۔صدق دل سے روزے رکھو۔صدقہ و خیرات کرو۔درود اور استغفار پڑھا کرو۔اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو۔ہمسایوں سے مہربانی سے پیش آئو۔بنی نوع بلکہ حیوانوں پر بھی رحم کرو اور ان پر بھی ظلم نہ چاہیے۔خدا سے ہر وقت حفاظت چاہتے رہو کیونکہ ناپاک اور نامراد ہے وہ دل جو ہر وقت خدا کے آستانہ پر نہیں گرا رہتا وہ محروم کیا جاتا ہے۔دیکھو! اگر خدا ہی ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۷ مو ر خہ ۲۱؍ــفروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶