ملفوظات (جلد 4) — Page 16
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶ جلد چهارم اس ضمن میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ رسول معنا ( التوبة : ۴۰) اس معیت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں اور گو یا کل جماعت آپ کی آگئی ۔ موسیٰ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا بلکہ کہا اِن مَعِيَ رَبِّي (الشعراء: ۶۳ ) اس میں کیا سر تھا کہ انہوں نے اپنے ہی ساتھ معیت کا اظہار کیا ؟ اس میں یہ راز ہے کہ اللہ جامع جمیع شیون کا ہے اور اسم اعظم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کے ساتھ اسم اعظم کی، لم کی معیت مع تمام صفات کے پائی جاتی ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام کی قوم شریر اور فاسق فاجر تھی۔ آئے دن لڑنے اور پتھر مارنے کو طیار ہو جاتی تھی اس لئے ان کی طرف معیت کو منسوب نہیں کیا بلکہ اپنی ذات تک اسے رکھا ہے۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور علو مدارج کا اظہار مقصود ہے ۔ فرمایا۔ یہ پیشگوئیاں جو ہیں یہ ایمان کو قوی ایمان، عرفان میں کیسے تبدیل ہوتا ہے کر کے عرفان بنادیتی ہیں۔ نری باتوں سے ایمان قوی نہیں ہو سکتا جب تک اس میں قوت کی شعاعیں نہ پڑیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان نشانات سے پیدا ہوتی ہیں ۔ پس ان پیشگوئیوں کو خوب کان کھول کر سننا چاہیے دوسرے وقت جب یہ پوری ہوتی ہیں البدر سے ۔ خدا تعالیٰ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے زیادہ خدا کی کیا عنایت ہو سکتی ہے کہ ہر ایک موقع پر قبل از وقت بشارت دی جاتی ہے اور فتح اور نصرت کے وعدے کئے جاتے ہیں۔ خون کا مقدمہ جب مجھ پر بنایا گیا تو قبل از وقت اس کی اطلاع دی گئی اور پھر اس کے واقعات اور انجام سب کچھ بتایا گیا جن کی تفصیل ”کتاب البریہ میں ہے ایسی باتیں اس لئے ہوتی ہیں کہ جن کی ایمانی آنکھ کمزور ہے خدا تعالیٰ کی قدرتوں کی شعاع ان کی بصارت کو جلا دیوے اور ایمان میں ترقی کریں ۔ اس لئے جو کچھ سنا یا جاوے اسے خوب یا د رکھنا چاہیے یا لکھ لینا چاہیے تا کہ یادر ہے۔ بو ہے تا کہ یادر ہے۔ بعض آدمی میری باتوں کو سنتے ہیں مگر یاد نہیں رکھتے حالانکہ ان باتوں کے یادرکھنے سے ایمان کو قوت ملتی ہے ۔“ 66 البدر جلد نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۲)