ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 226

جوش نہیں دکھا یا گیا جو صادق کے لیے دکھایا جاتا ہے۔اس لیے کہ مفتری تو شیطان کے منشا کے موافق ہوتا ہے اسی لیے وہ اس کے خلاف جنگ کرنی نہیں چاہتا اور صادق کے سینہ پر پتھر ہوتا ہے اس کو تباہ کرنے کے لئے زور لگاتا ہے مگر آخر خود ہی شیطان اس کے جنگ میں ہلاک کیا جاتا ہے۔ابوجہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل کس قدر زور لگایا یہاںتک کہ مباہلہ بھی کر لیا اور یہ دعا کی کہ جو شخص ہم میں سے کاذب ہے اور جو پھوٹ ڈالتا ہے اس کو ہلاک کر۔چنانچہ خود اسی روز ہلاک ہوگیا۔یاد رکھو کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جو اس کے آنے سے ایک پھوٹ نہ پڑی ہو۔اس کو اصلاح کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایک پھوٹ پڑے۔کیونکہ جس شخص کا جوڑ یا ہڈی اپنی جگہ پر نہ رہے تو وہ اسے اتار کر نئے سر سے لگاتا ہے۔اکثر مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ آریوں عیسائیوں کو دشمن بنا لیا ہے مگر ان کومعلوم نہیں جو خدا کی طرف سے آتا ہے وہ ضرور اپنے دشمن بنا لیتا ہے کیونکہ اس کو پاک جماعت تیار کرنی پڑتی ہے جن میں سچی تقویٰ و طہارت ہو اور سچی اخوت ہو۔مگر سفلی زندگی کے عادی نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک صلاحیت قائم ہو وہ دنیا سے دل لگا کر خدا تعالیٰ کی طرف سے غافل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں۔؎ اب تو آرام سے گذرتی ہے عاقبت کی خبر خدا جانے یہی ان کا مذہب اور مشرب ہوتاہے حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ یہ مُردار زندگی کیا چیز ہے۔انسان اگر خدا تعالیٰ سے قوت پاوے تو وہ اس مُردار زندگی سے مَرنا بہتر سمجھے گا۔دنیا کے دوست مطلب کے دوست ہوتے ہیں۔حقیقی محبت اور اخوت خدا تعالیٰ میں ہو کر ملتی ہے۔ان لوگوں کو دیکھو جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر توبہ کی کیا ان کے باہم تعلقات نہ تھے؟ لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت میں آنکھ کھلی تو پھر یہاں تک متأثر ہوئے کہ نہ بیٹے کو بیٹا سمجھا نہ باپ کو باپ بلکہ وہ تعلقات بالکل قطع ہوگئے اور سارے تعلقات خدا میں ہو کر قائم ہوئے۔خدا کے لیے دشمن ہو جاتے۔دنیا کی دولتیں جس میں خدا درمیان نہیں ہوتا وفاداری سے نہیں نباہ سکتے۔اسی طرح اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری جماعت میں جب کوئی داخل ہوتا ہے تو اس کے اپنے متعلقین میں