ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 225

امت کا فضل ظاہر ہووے۔اولیاء اللہ کے کشوف بھی اسی پر دلالت کرتے ہیں اور جو نشانات اس وقت کے لیے رکھے ہوئے تھے وہ بھی اپنے اپنے وقت پر پورے ہوگئے۔واقع شدنی امور ہوجاتے ہیں جو نہیں ہونے والے ہوتے وہ نہیںہوتے۔اگر علماء کے معنے سچے ہوتے تو جو کچھ انہوں نے مانا ہوا تھا اس میں سے کچھ تو پورا ہوتا۔اعانت اسلام کا زمانہ تو یہی تھا پھر کیا وجہ ہے کہ خدا نے بقول ان کے کچھ بھی نہ کیا۔انگریزوں کا تسلّط مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ ( الانبیآء : ۹۷ ) کا مصداق ہوگیا اور وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ(التکویر : ۵)کے موافق اونٹنیاں بے کار ہوگئیں جو اس آخری زمانہ کا ایک نشان ٹھہرایا گیا تھا۔عشار حاملہ اونٹنیوں کو کہتے ہیں یہ لفظ اس لیے اختیار کیا گیا ہے تا یہ وہم نہ رہے جیسا بعض لوگ کہتے ہیں کہ قیامت کے متعلق ہے قیامت میں تو حمل نہ ہوگا اور بے کار ہونا یہاں تو الگ رہا مکہ مدینہ کے درمیان بھی ریل تیار ہو رہی ہے۔اخبارات نے بھی اس آیت اور مسلم کی حدیث سے استنباط کر کے مضامین لکھے ہیں۔پس یہ اور دوسرے نشان تو پورے ہو گئے مَیں اگر صادق نہیں ہوں تو دوسرے مدعی کا نشان بتاؤ اور اس کا ثبوت دیکھو۔بات یہ ہے کہ افترا اور کذب کی عمر نہیں ہوا کرتی یہ جلد فنا ہو جاتے ہیں، مفتری کے ہلاک کرنے کے لیے خارجی قوت اور زور کی حاجت ہی نہیں ہوتی، خود ان کا افترا ان کو ہلاک کر دیتا ہے اور مفتری کے مقابل میں کبھی جوش نہیں ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل جس قدر جوش ہوا کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ مسیلمہ کذّاب اور اسود عنسی کے مقابل بھی ہوا تھا۔صادق مدعی کے خلاف ہی شیطان جوش دکھاتا ہے صادق کے مقابل اس کے لیے جوش ہوتا ہے کہ شیطان سمجھتا ہے کہ اب مجھے ہلاک کیا جاوے گا اور وہ اس سے ناراض ہوتا ہے اس لیے جہاں تک ممکن ہو وہ ان کی مخالفت میں زور لگاتا ہے اور یہ جوش پھیل جاتا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی بہت سے آدمیوں نے دعوے کیے تھے مگر اب کوئی ان کا نام بھی نہیں لے سکتا۔اسی طرح ہوتا رہا ہے کہ صادق کے مقابل میں بعض کاذب مدعی بھی ہوتے رہے ہیں مگر کسی مقابلہ کے لیے اس قدر