ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 15

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵ جلد چهارم یہ معرفت کی باتیں ہوتی ہیں جہنم سے نکلیں گے۔ مگر یہ نہیں لکھا کہ بہشت میں مومنین کی طرح ان کو بھی کچھ حصہ ملے گا ہاں ان کے ماتھے پر دوزخ کا نشان ہوگا۔ پھر سوال کیا کہ بہشت والوں کو روز کا عیش و آرام بھی دکھ ہو جاوے گا۔ فرمایا۔ بہشت میں بھی ہر روز ایک تجدد ہوتا رہے گا اسی طرح دوزخیوں پر بھی لکھا ہے بد لنهم جُلُودًا غَيْرَهَا (النساء: ۵۷) مگر خدا کا تجد دبے پایاں ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔ خدا کے کاموں میں انتہا نہیں ۔ فرماتا ہے وَ لَدَيْنَا مَزِيدٌ (ق : ۳۶) یعنی زیادتی ہوتی رہے گی ۔ پھر سوال کیا کہ میں نے آج سے پہلے کبھی روزہ نہیں رکھا اس کا کیا فدیہ دوں ۔ فرمایا۔ خدا ہر شخص کو اس کی وسعت سے باہر دکھ نہیں دیتا۔ وسعت کے موافق گذشتہ کا فدیہ دے دو اور آئندہ عہد کرو کہ سب روزے ضرور رکھوں گا۔ کے جنوری ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر ) سیر کو نکلتے ہی سلسلہ کلام يبدى لك الرحمن الہام سے شروع ہوا ۔ اللہ اور رحمن فرمایا۔ رحمان اپنے اندر بشارت رکھتا ہے چونکہ یہ بشارت تھی اس لئے اس الہام میں رحمٰن کا لفظ رکھا ہے۔ اور شیعا کے لفظ میں کچھ خفا تھا جو گو اس کی عظمت کے لئے ہے مگر ایک خفا ضرور ہے اس لیے اس خیال سے کہ وہم نہ پیدا ہو پھر اور واضح الفاظ میں فرمایا بَشَارَةٌ تَلَقَّاهَا النَّبِيُّونَ - يُبْدِى لَكَ الرَّحْمَن میں لام بھی انتفاع کے لئے فرمایا دوسرے الہام وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ الْعِدا میں اللہ کا لفظ اس لئے رکھا کہ اللہ اپنے جلال کو چاہتا ہے اور اس کہ اللہ اپنے جلال کو چاہتا ہے اور اس عصمت میں اظہار جلال مقصود تھا اس لفظ کو اختیار فرما یا جواسم اعظم ہے۔ البدر جلد ا نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۱٬۹۰