ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 220

اس شخص کو پُورے طور پر تبلیغ ہو جاوے اس لیے اس کی ہر بات اور ہر ایک اعتراض کو نہایت توجہ سے سن کر اس کا مبسوط جواب فرماتے آج جب آپ سَیر کو تشریف لے چلے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قصہ سے سلسلہ تقریر شروع ہوا رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى (البقرۃ:۲۶۱) رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى کی لطیف تفسیر فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قصہ پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت آپ سے بھی بڑھی ہوئی تھی یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ ارشاد ہوا اَوَلَمْ تُـؤْمِنْ کیا تو اس پر ایمان نہیں لاتا؟ اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کا جواب یہی دیا کہ بَلٰی ہاں میں ایمان لاتا ہوں مگر اطمینانِ قلب چاہتا ہوں لیکن آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایسا سوال نہ کیا اور نہ ایسا جواب دینے کی ضرورت پڑی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ پہلے ہی سے ایمان کے انتہائی مرتبہ اطمینان اور عرفان پر پہنچے ہوئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اَدَّبَنِیْ رَبِّیْ فَاَحْسَنَ اَدَبِیْ تو یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے۔ہاں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی ایک خوبی اس سے پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا اَوَلَمْ تُـؤْمِنْ تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں اس پر ایمان نہیںرکھتا بلکہ یہ کہا کہ ایمان تورکھتا ہوں مگر اطمینان چاہتا ہوں۔پس جب ایک شخص ایک شرطی اقتراح پیش کرے اور پھر یہ کہے کہ میں اطمینانِ قلب چاہتا ہوں تو وہ اس سے استدلال نہیں کرسکتا کیونکہ شرطی اقتراح پیش کرنے والا تو ادنیٰ درجہ بھی ایمان کا نہیں رکھتا بلکہ وہ تو ایمان اور تکذیب۱ کے مقام پر ہے اور تسلیم کرنے کو مشروط بہ اقتراح کرتا ہے۔پھر وہ کیوں کر کہہ سکتا ہے کہ میں ابراہیم ؑ کی طرح اطمینانِ قلب چاہتا ہوں۔ابراہیم ؑ نے تو ترقی ایمان ۱ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔فقرہ یوں ہونا چاہیے ’’بلکہ وہ تو ایمان اور تکذیب کے درمیانی مقام پر ہے۔‘‘لفظ ’’درمیانی ‘‘ چھوٹا ہو امعلوم ہوتا ہے۔(مرتّب)