ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 216

انہوں نے ایک موت اختیار کی اور اس زندگی کے بدلہ میں پائی۔عبادت اللہ تعالیٰ کی محبتِ ذاتی سے رنگین ہو کر کرو میں دوزخ اور بہشت پر ایمان لاتا ہوں کہ وہ حق ہیں اور ان کے عذاب اور اکرام اور لذائذ سب حق ہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ انسان خدا کی عبادت دوزخ یا بہشت کے سہارے سے نہ کرے بلکہ محبت ذاتی کے طور پر کرے۔دوزخ بہشت کا انکار مَیںکفر سمجھتا ہوں اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا حماقت ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ عبادت اللہ تعالیٰ کی محبتِ ذاتی سے رنگین ہو کر کرے جیسے ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے کیا اس امید پر کہ وہ اسے کھلائے گا۔نہیں بلکہ وہ جانتی ہی نہیں کہ کیوں اس کی پرورش کر رہی ہے یہاں تک کہ اگر بادشاہ اس کو حکم دے دے کہ تو اگر اس بچہ کی پرورش نہ کرے گی اور اس سے یہ بچہ مَر بھی جاوے تو تجھ کو کوئی سزا نہ دی جاوے گی بلکہ انعام ملے گا تو کیا وہ اس حکم سے خوش ہوگی یا بادشاہ کو گالیاں دے گی۔یہ محبت ذاتی ہے اسی طرح خدا کی عبادت کرنی چاہیے نہ کہ کسی جزا و سزا کے سہارے پر۔محبت ذاتی میں اغراض فوت ہوجاتے ہیں اور خدا تو وہ خدا ہے جو ایسا رحیم و کریم ہے کہ جو اس کا انکار کرتے ہیں ان کو بھی رزق دیتا ہے۔کیا سچ کہا ہے۔؎ دوستاں را کجا کنی محروم تو کہ بادشمناں نظر داری جب وہ دشمنوں کو محروم نہیں کرتا تو دوستوں کو کب ضائع کر سکتا ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام کا قول ہے کہ میں جوان تھا اب بوڑھا ہوگیا ہوں مگر میں نے متّقی کو کبھی ذلیل و خوار نہیں دیکھا اور نہ اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے دیکھا۔یہ اخلاص کا نتیجہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ اسی دنیا میں ظاہر کرتا ہے اور اخلاص ایک کیمیا ہے اور اگر اس میں اور باتیں نکالیں تو اس پاکیزہ اور مصفّٰی چشمہ کو گندے چھینٹوں سے ناپاک کر دیتے ہیں۔وہ خود ہماری حاجتوں سے آگاہ اور واقف ہے اور خوب جانتا ہے۔کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میںجلا دینے کی کوشش کی گئی اس وقت ان کے پاس فرشتے آئے اور کہا کہ تمہیں کوئی حاجت ہے؟ تو ابراہیم علیہ السلام نے ان کو یہی جواب دیا کہ بَلٰى وَ لٰكِنْ اِلَیْکُمْ فَلَا