ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 214

ملفوظات حضرت مسیح موعود دعوی سے کہتا ہوں ہرگز نہ ملے گی ۔ ۲۱۴ جلد چهارم ہاں یہ میں جانتا ہوں کہ طبیب تو مریض کو کلور و فارم سنگھا کر بھی دوائی اندر پہنچا سکتا ہے۔ روحانی طبابت میں یہ نہیں ہے بلکہ باتوں کو مؤثر بنانا اور دل میں ڈالنا خدا تعالیٰ کا کام ہے وہ جب چاہتا ہے تو شوخی کو دور کر کے خود اندر ایک واعظ پیدا کر دیتا ہے۔ نو وارد ۔ میں اہل اسلام کی زیادتی پر تعجب کرتا ہوں ۔ آپ کے کلمات میں میں کوئی وجہ کفر کی نہیں دیکھتا ۔ حضرت اقدس ۔ آپ کتا بیں بھی دیکھ لیں تا کوئی شک آپ کو باقی نہ رہے کہ کون سے ایسے کلمات ہیں جو قال اللہ اور قال الرسول کے خلاف ہیں ۔ میں ان کے کفر کی پروا نہیں کرتا ۔ ضرور تھا کہ ایسا پروانہیں ہی ہوتا کیونکہ ان کے ہی آثار میں لکھا ہوا تھا کہ مسیح ۔ موعود جب آئے گا تو اس پر کفر کے فتوے دیئے جاویں گے یہ پیشگوئیاں کیسے پوری ہوتیں؟ یہ تو اپنے ہاتھ سے پوری کر رہے ہیں۔ مجد د صاحب یہ اور نواب صدیق حسن صاحب کہتے ہیں کہ جب وہ آئے گا تو علماء مخالفت کریں گے اور محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے کہ جب وہ آئے گا تو ایک شخص اٹھ کر کہے گا إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ غَيَّرَ دِينَنَا ۔ اب جب کہ پہلے سے یہ باتیں ہیں تو ہم خوش ہوتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے ہاتھ سے پورا کر رہے ہیں ۔ اب جب کہ یہ باتیں پہلے سے یہ ہیں کہ یہ بھی صداقت کا نشان ہے اس لیے ہم ان باتوں کی کچھ پروانہیں کرتے۔ یہ جو کہتے ہیں کہ آسمان سے مسیح آئے گا وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام وفات پاگئے ۔ لے - آخر میں فرمایا کہ اگر وہ صحابہ کا سامذاق اور محبت ہوتی جو صحابہ کے دل میں تھی تو یہ عقیدہ نہ رکھتے کہ وہ زندہ ہیں ۔ حضرت عیسیٰ کو خالق بھی نہ مانتے اور غیب دان بھی ۔ خدا تعالیٰ ان فسادوں کو روا نہیں ۔ رکھتا اور اس نے چاہا ہے کہ اصلاح کرے۔ ہمارا کام اللہ کے لیے ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کا یہ کاروبار ہے لے یہاں حضرت اقدس نے آیت شریفہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی اور حدیث معراج سے استدلال کر کے ایک جامع تقریر فرمائی جو ہم بار ہا شائع کر چکے ہیں ۔ اور اپنے وجود پر سورہ ٹور سے استدلال فرمایا اور ایسا ہی مسیح کی قبر کشمیر کے متعلق بیان فرماتے رہے اور وفات مسیح پر صحابہ کے اجماع کا ذکر فرمایا۔ (ایڈیٹر )۔