ملفوظات (جلد 4) — Page 214
دعویٰ سے کہتا ہوں ہرگز نہ ملے گی۔ہاں یہ میں جانتا ہوں کہ طبیب تو مریض کو کلورو فارم سُنگھا کر بھی دوائی اندر پہنچا سکتا ہے۔روحانی طبابت میں یہ نہیں ہے بلکہ باتوں کو مؤثر بنانا اور دل میں ڈالنا خدا تعالیٰ کا کام ہے وہ جب چاہتا ہے تو شوخی کو دور کرکے خود اندر ایک واعظ پیدا کر دیتا ہے۔نو وارد۔میں اہل اسلام کی زیادتی پر تعجب کرتا ہوں۔آپ کے کلمات میں میں کوئی وجہ کفر کی نہیں دیکھتا۔حضر ت اقدس۔آ پ کتابیں بھی دیکھ لیں تا کوئی شک آپ کو باقی نہ رہے کہ کون سے ایسے کلمات ہیں جو قال اللہ اور قال الرسول کے خلاف ہیں۔میں ان کے کفر کی پروا نہیں کرتا۔ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا کیونکہ ان کے ہی آثار میں لکھا ہوا تھا کہ مسیح موعود جب آئے گا تو اس پر کفر کے فتوے دیئے جاویں گے یہ پیشگوئیاں کیسے پوری ہوتیں؟ یہ تو اپنے ہاتھ سے پوری کر رہے ہیں۔مجدّد صاحب اور نواب صدیق حسن صاحب کہتے ہیں کہ جب وہ آئے گا تو علماء مخالفت کریں گے اور محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے کہ جب وہ آئے گا تو ایک شخص اٹھ کر کہے گا اِنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ غَیَّرَ دِیْنَنَا۔اب جب کہ پہلے سے یہ باتیں ہیں تو ہم خوش ہوتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے ہاتھ سے پورا کر رہے ہیں۔اب جب کہ یہ باتیں پہلے سے یہ ہیں کہ یہ بھی صداقت کا نشان ہے اس لیے ہم ان باتوں کی کچھ پروا نہیں کرتے۔یہ جو کہتے ہیں کہ آسمان سے مسیح آئے گا وہ ا تنا نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام وفات پا گئے۔۱ آخر میں فرمایا کہ اگر وہ صحابہؓ کا سا مذاق اورمحبت ہوتی جو صحابہؓ کے دل میں تھی تو یہ عقیدہ نہ رکھتے کہ وہ زندہ ہیں۔حضرت عیسیٰ کو خالق بھی نہ مانتے اور غیب دان بھی۔خدا تعالیٰ ان فسا دوں کو روا نہیں رکھتا اور اس نے چاہا ہے کہ اصلا ح کرے۔ہمارا کام اللہ کے لیے ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کا یہ کاروبار ہے ۱ یہاں حضرت اقدس نے آیت شریفہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ اور حدیث معراج سے استدلال کرکے ایک جامع تقریر فرمائی جو ہم بارہا شائع کر چکے ہیں۔اور اپنے وجود پر سورۂ نُور سے استدلال فرمایا اور ایسا ہی مسیح کی قبر کشمیر کے متعلق بیان فرماتے رہے اور وفاتِ مسیح پر صحابہؓ کے اجماع کا ذکر فرمایا۔(ایڈیٹر)۔