ملفوظات (جلد 4) — Page 209
گامگر اب دیکھو کہ اس کی ہڈیوں کا بھی کہیں نشان پایا جاتا ہے۔مگر میں خدا کے فضل سے اسی طرح زندہ ہوں۔یہ امور ہیں اگر حق پسند تأنی اور توقف سے ان میں غور کرے تو فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر نرے بحث کرنے والے جلدباز کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔۱ منجملہ میرے نشانوں کے طاعون کا بھی ایک نشان ہے اس وقت میں نے خبر دی تھی جب کہ ابھی کوئی نام و نشان بھی اس کا پایا نہ جاتا تھا اور یہ بھی الہام ہوا تھا کہ یَا مَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَانَا اب دیکھ لو کہ یہ وبا خطرناک طور پر پھیلی ہوئی ہے اور گائوں کے گائوں اس طرف رجوع کر رہے ہیں اور توبہ کرتے جاتے ہیں کیا یہ باتیں انسانی طاقت کے اندر ہیں؟ یہی امور ہیں جو خارق عادت کہلاتے ہیں۔تجدید دین کی ضرورت نووارد۔کیا یہ ضروری ہے کہ ہر صدی پر مجدّد ہونا چاہیے۔۲ حضرت اقدس۔ہاں یہ تو ضروری ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدّد آئے۔بعض لوگ اس بات کو سن کر پھر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب کہ ہر صدی پر مجدّد آتا ہے تو پھر تیرہ صدیوں کے مجدّدوں کے نام بتائو۔میں اس کا پہلا جواب یہ دیتا ہوں کہ ان مجدّدوں کے نام بتانامیرا کام نہیں یہ سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کرو جنہوں نے فرمایا ہے کہ ہر صدی پر مجدّد ۱ البدر سے۔’’ یہ اُمور جو ایک صالح اور شریف کے واسطے قابلِ غور ہیں بشرطیکہ وہ اپنے نفس کا علاج کرانے والا ہو۔اس کو یہ موقع نہیں ہے کہ بحث کرے۔اسے خیال کرنا چاہیے کہ خدا کا ایک قہری نشان موت(طاعون) سر پر ہے کسی کو کیا علم کہ اس نے کہاں تک سَیر کرنا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵۳ ) ۲ البدر میں نووارد کے اس سوال سے پہلے ایک اَور سوال اور اس کا جواب منجانب سیّد نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام یوں درج ہے۔محمد یوسف صاحب۔یہ امور تو سب ٹھیک ہیں اور آپ کوئی اَمر خلافِ واقعہ قرآن نہیں کہتے ہیں لیکن میں صرف اپنی عقل کے موافق رفع شکوک چاہتا ہوں اور جہالت سے متنفر ہوں۔حضرت اقدس۔دیکھئے ایک طریق وکلاء کا ہوتا ہے کہ اُن کو حق ناحق سے غرض نہیں ہوتی جس فریق کا مقدمہ لے لیا ہے اب اسی کی بات کرتے ہیں اور ایک خیال انسان کے اندر ہوتا ہے جس سے وہ خوشبو اور بدبو کا پتا لے لیتا ہے۔وہ ایک قسم کا نُور ہوتا ہے جس سے انسان معصیت سے بچا رہتا ہے۔اب ان عیسائی آریہ وغیرہ پر دیکھا گیا ہے کہ سب اپنے مذہب کی پچ کرتے ہیں ورنہ اُن کے پاس کوئی دلائل حقانیت کے نہیں ہیں۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵۳ )