ملفوظات (جلد 4) — Page 208
عیسائی سب گواہی دیں گے کہ یہ اس وقت بتایا گیا تھا جب میں اَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ تھا۔اس نے مجھے بتایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ تیری مخالفت ہوگی مگر میں تجھے بڑھائوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اب ایک آدمی سے پونے دو لاکھ تک تو نوبت پہنچ گئی دوسرے وعدے بھی ضرور پورے ہوں گے۔لیکھرام کے متعلق نشان پھر آریوں کے مقابل میں ایک نشان مجھے دیا گیا جو لیکھرام کے متعلق تھا وہ اسلام کا دشمن تھا اور گندی گالیاں دیا کرتا اور پیغمبرخدا صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا تھا۔یہاں قادیان آیا اور اس نے مجھ سے نشان مانگا۔میں نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی چنانچہ میں نے اس کو شائع کردیا اور یہ کوئی مخفی بات نہیں۔کُل ہندوستان اس کو جانتا ہے کہ جس طرح قبل از وقت اس کی موت کا نقشہ کھینچ کر دکھایا گیا تھا اسی طرح وہ پورا ہو گیا۔اس کے علاوہ اور بہت سے نشانات ہیں جو ہم نے اپنی کتابوں میں درج کیے ہیں اور اس پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا خدا تھکنے والا خدا نہیں۔وہ تکذیب کرنے والوں کے لیے ہروقت طیار ہے۔میں نے پنجاب کے مولویوں اور پادریوں کو ایسی دعوت کی ہے کہ وہ میرے مقابل میں آکر ان نشانات کو جو ہم پیش کرتے ہیں فیصلہ کرلیں۔اگر ان کو نہ مانیں تو دعا کرسکتا ہوں اور اپنے خدا پر یقین رکھتا ہوں کہ اور نشان ظاہر کر دے گا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ وہ صدق نیت سے اس طرف نہیں آتے بلکہ لیکھرامی حیلے کرتے ہیں۱ مگر خدا تعالیٰ کسی کی حکومت کے نیچے نہیں ہے۔میں بار بار یہی کہتا ہوں کہ پہلے ان خوارق کو جو پیش کرتا ہوں دیکھ لو اور منہاجِ نبوت پرسوچو۔اگر پھر بھی تکذیب کے لیے جرأت کرو گے تو خدا کی غیرت کے لیے زیادہ جنبش ہو گی اوروہ قادر ہے کہ کوئی اَمر انسانی طاقت سے بالاتر ظاہر کرے۔لیکھرام کی نسبت جب پیشگوئی کی گئی تھی تو اس نے بھی میرے لیے ایک پیشگوئی کی تھی اور یہ شائع کردیا تھا کہ تین سال کے اندر ہیضہ سے ہلاک ہوجاوے ۱ البدر سے۔’’ یہ لوگ جو اس طرح کے سوال کرتے ہیں کہ زمین کو اُلٹ کر دکھادو۔ٹکڑے ٹکڑے کردو۔اس طرح کے سوالات تو کفار آنحضرتؐپر کیا کرتے تھے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ ؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵۳ )