ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 207

کمزور کرنا چاہتے ہیں۔کوئی ڈاکٹر ہے تو وہ طبابت کے رنگ میں یا صدقات و خیرات کے رنگ میں عہدہ دار ہو تب ولیم میور کی طرح اپنے رنگ میں۔غرض صدہا شا خیں ہیں جو اسلام کے استیصال کے لیے انہوں نے اختیار کر رکھی ہیں۔یہ دل سے چاہتے ہیں کہ ایک فرد بھی اسلام کا نام لینے والا باقی نہ رہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوماننے والا کوئی نہ ہو۔ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن میں ان کے جوش کو بیان کرسکیں۔ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے مجھے وہ جوش کسرِ صلیب کے لیے دیا ہے کہ دنیا میں اس وقت کسی اَور کو نہیں دیا گیا۔پھر کیا یہ جوش بدوں خدا کی طرف سے مامور ہوکر آنے کے پیدا ہوسکتا ہے؟ جس قدر توہین اللہ تعالیٰ کی اور اس کے پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کی گئی ہے کیا ضرور نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ جو غیور ہے آسمان سے مدد کرتا۔غرض ایک طرف تو یہ صلیبی فتنہ انتہا کو پہنچا ہو اہے۔دوسری طرف صدی ختم ہوگئی۔تیسری طرف اسلام کا ہر پہلو سے ضعیف ہونا کسی طرف نظر اُٹھا کر دیکھو طبیعت کو بشاشت نہیں ہوتی۔ایسی صورت میں ہم چاہتے ہیں کہ پھر خدا کا جلال ظاہر ہو۔مجھے محض ہمدردی سے کلام کرنا پڑتا ہے ورنہ میں جانتا ہوں کہ غائبانہ میری کیسی ہنسی کی جاتی ہے اور کیا کیا افترا ہوتے ہیں۔مگر جو جوش خدا نے مجھے ہمدردی مخلوق کا دیا ہوا ہے وہ مجھے ان باتوں کی کچھ بھی پروا نہیں کرنے دیتا۔میں تو خدا کو خوش کرنا چاہتا ہوں نہ لوگوں کو۔اس لیے میں ان کی گالیوں اور ٹھٹھوں کی کچھ پروا نہیں کرتا۔میں دیکھتا ہوں کہ میرا مولا میرے ساتھ ہے۔ایک وقت تھا کہ ان راہوں میں مَیں اکیلا پھرا کرتا تھا۔اس وقت خدا نے مجھے بشارت دی کہ تو اکیلا نہ رہے گا بلکہ تیرے ساتھ فوج درفوج لوگ ہوں گے اور یہ بھی کہا کہ تو ان باتوں کو لکھ لے اور شائع کر دے کہ آج تیری یہ حالت ہے پھر نہ رہے گی۔میں سب مقابلہ کرنے والوں کو پست کرکے ایک جماعت کو تیرے ساتھ کر دوں گا۔وہ کتاب موجود ہے مکّہ معظمہ میں بھی اس کا ایک نسخہ بھیجا گیا تھا۔بخارا میں بھی اور گورنمنٹ میں بھی۔اس میں جو پیشگوئیاں ۲۲ سال پیشتر چھپ کر شائع ہوئی ہیں وہ آج پوری ہو رہی ہیں۔کون ہے جو ان کا انکار کرے۔ہندو، مسلمان اور