ملفوظات (جلد 4) — Page 204
خدا دانی اور معرفت بہت مشکل ہے۔ہر چیز اپنے لوازمات کے ساتھ آتی ہے پس جہاں خدادانی آتی ہے اس کے ساتھ ہی ایک خاص معرفت اور تبدیلی بھی آ جاتی ہے کبائر اور صغائر جو چیونٹیوں کی طرح ساتھ لگے ہوئے ہیں خدا کی معرفت کے ساتھ ہی وہ دور ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ اب میں وہ نہیں بلکہ اَور ہوں۔خدادانی میں جب ترقی کرنے لگتا ہے تو گناہ سے بیزاری اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اطمینان کی حالت میں پہنچ جاتا ہے۔نفس کی تین قسمیں نفس تین قسم کے ہوتے ہیں ایک نفسِ امّارہ ایک لوّامہ اور تیسرا مطمئنّہ۔پہلی حالت میں تو صُمٌّۢ بُكْمٌ ہوتا ہے کچھ معلوم اور محسوس نہیں ہوتا کہ کدھر جا رہا ہے امّارہ جدھر چاہتا ہے لے جاتا ہے۔اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہو تو معرفت کی ابتدائی حالت میں لوّامہ کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور گناہ اور نیکی میں فرق کرنے لگتا ہے۔گناہ سے نفرت کرتا ہے مگر پوری قدرت اور طاقت عمل کی نہیں پاتا۔نیکی اور شیطان سے ایک قسم کا جنگ ہوتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ کبھی یہ غالب ہوتا اور کبھی مغلوب ہوتا ہےلیکن رفتہ رفتہ وہ حالت آجاتی ہے کہ یہ مطمئنّہ کے رنگ میں آ جاتا ہے اور پھر گناہوں سے نری نفرت ہی نہیں ہوتی بلکہ گناہ کی لڑائی میں یہ فتح پا لیتا ہے اور ان سے بچتا ہے اور نیکیاں اس سے بلا تکلّف صادر ہونے لگتی ہیں۔پس اس اطمینان کی حالت پر پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے لوّامہ کی حالت پیدا ہو اور گناہ کی شناخت ہو۔گناہ کی شناخت حقیقت میں بہت بڑی بات ہے جو اُس کو شناخت نہیں کرتا اس کا علاج نبیوں کے پاس نہیں ہے۔۱ نیکی کا پہلا دروازہ اسی سے کھلتا ہے اوّل اپنی کو رانہ زندگی کو سمجھے اور پھر بُری مجلس اور بُر ی صحبت کو چھو ڑکر نیک مجلس کی قدر کرے اس کا یہی کام ہونا چاہیے کہ جہاں بتایا جاوے کہ اس کے مرض کا علاج ہوگا وہ اس طبیب کے پاس رہے اور جو کچھ وہ اس کو بتاوے اس پر عمل کرنے کے لیے ہمہ تن طیار ہو۔دیکھو! بیما ر جب کسی طبیب کے پاس جاتا ہے تو یہ البدر سے۔’’یہ بات غلط ہے کہ کسی نبی یا ولی کے پاس جانے سے ایک دم میں ہی ایک پُھونک سے سب کچھ ہوجاتا ہے اور وہ ہدایت پاتا ہے۔ہدایت تو اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے یہ نہ نبی کا کام ہے نہ کسی اَور کا‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ ؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵۲)