ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 198

موجود ہیں۔یہ تو نصوص کی شہادت ہے اور عقل اس واسطے مؤید ہے کہ اس وقت بحروبر میں فساد تھا گویا نبوت کا ثبوت ایک نص تھا دوسری ضرورت تیسری وہ معجزات جوآپ سے صادر ہوئے۔اب اگر کوئی سچے دل سے طا لب حق ہو تو اس کو یہی باتیں یہاں دیکھنی چاہئیں اور ان کے موافق ثبوت لے۔اگر نہ پائے تو تکذیب کا حق اسے حاصل ہے اور اگر ثابت ہو جائیں اور وہ پھر بھی تکذیب کرے تو میری نہیں کل انبیاء کی تکذیب کرے گا۔نو وارد۔اگر ان ضروریات موجودہ کی بنا پرکوئی اور دعویٰ کرے کہ میں عیسیٰ ہوں تو کیا فرق ہوگا؟ حضرت اقدس۔یہ فرضی بات ہے ایسے شخص کا نام لیں۔اگر یہی بات ہے کہ ایک کاذب بھی کہہ سکتا ہے تو پھر آپ اس اعتراض کا جواب دیں کہ اگر مسیلمہ کذّاب کہتا کہ توریت اور انجیل کی بشارت کا مصداق میں ہوں تو آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے لیے کیا جواب دیں گے؟ نو وارد۔میں نہیں سمجھا۔حضرت اقدس۔میرا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کا یہ اعتراض صحیح ہوسکتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی تو بعض جھوٹے نبی موجود تھے جیسے مسیلمہ کذّاب، اسود عنسی۔اگر وہ یہ کہتے کہ انجیل اور توریت میں جو بشارات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجود ہیں جن کے موافق یہ کہتے کہ یہ بشارات میرے حق میں ہیں تو کیا جواب ہوسکتا تھا؟ نو وارد۔میں اس کو تسلیم کرتا ہوں۔حضرت اقدس۔یہ سوال اس وقت ہوسکتا تھا جب ایک ہی جزوپیش کرتا مگر میں تو کہتا ہوں کہ میری تصدیق میں دلائل کا ایک مجموعہ میرے ساتھ ہے۔نصوصِ قرآنیہ حدیثیہ میری تصدیق کرتے ہیں ضرورتِ موجودہ میرے وجود کی داعی اور وہ نشان جو میرے ہاتھ پر پورے ہوئے ہیں وہ الگ میرے مصدّق ہیں۔ہر ایک نبی ان امور ثلاثہ کو پیش کرتا رہا ہے اور میں بھی یہی پیش کرتا ہوں۔پھر کس کو انکار کی گنجائش ہے۔اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ میرے لیے ہے تو اسے میرے مقابلہ میں پیش کرو۔