ملفوظات (جلد 4) — Page 197
سید المعصومین کی نسبت سنیں جن سے دنیا میں لرزہ پڑگیا مگر اسے غیرت نہ آئی اور کوئی آسمانی سلسلہ اس نے قائم نہ کیا؟کیا ایسا ہوسکتا تھا۔جب چنداں بگاڑ نہ تھا تو مجدّد آتے رہے اور جب بگاڑ حد سے بڑھ گیا تو کوئی نہ آیا۔سوچو تو سہی! کیا عقل قبول کرتی ہے کہ جس اسلام کے لیے یہ وعدے اور غیرت خدا نے دکھائے جس کے نمونے صدرِ اسلام میں موجود ہیں تو اب ایسا ہوا کہ نعوذ باللہ مَر گیا۔اب اگر پادری یا دوسرے مذاہب کے لوگ پو چھیں کہ کیا نشان ہے اس کی سچائی کا تو بتائو قصہ کے سوا کیا جواب ہے۔جیسے ہندو کوئی پشتک پیش کر دیتے ہیں ویسے ہی یہ چند ورق لے کر آگے ڈال سکتے ہیں؟ بڑی بات یہ کہ معجزات کے لیے چند حدیثیں پیش کر دیں مگر کوئی کب مان سکتا ہے کہ ڈیڑھ سو برس بعد کے لکھے ہوئے واقعات صحیح ہیں۔مخالف پر حجت کیوں کر ہو؟ وہ تو زندہ خدا اور زندہ معجزہ کو مانے گا۔اس وقت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اور خرابیوں کے علاوہ اسلام کو بھی مُردہ مذہب بتایا جاتا ہے حالانکہ نہ وہ کبھی مُردہ۱ ہوگا۔خدا تعالیٰ نے اس کی زندگی کے ثبوت میں آسمان سے نشان دکھائے۔کسوف خسوف بھی ہوا۔طاعون بھی آئی۔حج بھی بند ہوا۔وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (التکویر:۵) کے موافق ریلیں بھی جاری ہوئیں۔غرض وہ نشان جو اس زمانہ کے لیے رکھے تھے پورے ہوئے مگر یہ کہتے ہیں ابھی وہ وقت نہیں آیا۔ماسوا اس کے وہ نشان ظاہر کیے جن کے گواہ نہ صرف ہماری جماعت کے لوگ ہیں بلکہ ہندو اور عیسائی بھی گواہ ہیں اور اگر وہ دیانت امانت کو نہ چھوڑیں تو ان کو سچی گواہی دینی پڑے گی۔میں نے بارہا کہا ہے کہ صادق کی شناخت کے تین بڑے معیار ہیں۔اوّل نصوص کو دیکھو۔پھر عقل کو دیکھو کہ کیا حالت موجودہ کے موافق کسی صادق کو آنا چاہیے یا نہیں؟ تیسرا کیا اس کی تائید میں کوئی معجزات اور خوارق بھی ہیں؟ مثلًاپیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دیکھتے ہیں کہ توریت انجیل میں بشارات ۱البدر میں ہے۔’’ لیکن اسلام نہ مُردہ ہے اور نہ مُردہ مذہب ہو گا ـــ‘‘۔(البدر جلد ۲ نمبر۶ مورخہ ۲۷ ؍فروری ۱۹۰۳ءصفحہ ۴۵ ) ترتیب عبارت کے لحاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ’’نہ وہ مُردہ ہے نہ کبھی مُردہ ہو گا ‘‘ ہونا چاہیے۔معلوم ہوتا ہے اس فقرہ کا پہلا حصہ سہواً رہ گیا ہے۔(مرتّب)