ملفوظات (جلد 4) — Page 196
نصوصِ قرآنیہ وحدیثیہ اور دلائل قویہ عقلیہ یا تائیداتِ سماویہ کے مان لیں۔مگر ہم یہ افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مسلمان جن کو قرآن شریف میں سورۃ فاتحہ کے بعد ہیهُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠(البقرۃ:۲) سکھایا گیاتھا اور جن کو یہ تعلیم دی گئی تھی اِنْ اَوْلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ (الانفال:۳۵) اور جن کو بتایا گیا تھا اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ (المآئدۃ:۲۸) ان کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے اس معاملہ میں اس قدر جلد بازی سے کام لیا اور تکفیر اور تکذیب کے لیے دلیر ہو گئے۔ان کا فرض تھا کہ وہ میرے دعاوی اور دلائل کو سنتے اور پھر خدا سے ڈر کر ان پر غور کرتے۔کیا ان کی جلد بازی سے پتا لگ سکتا ہے کہ انہوں نے تقویٰ سے کام لیا ہے جلد بازی اور تقویٰ کبھی دونوں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔نبیوں کو اللہ تعالیٰ نے یہی کہا فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ(الاحقاف:۳۶) پھر عام لوگوں کو کس قدر ضرورت تھی کہ وہ تقویٰ سے کام لیتے اور خدا سے ڈرتے۔باوجودیکہ علماء کی اگر میرے دعویٰ سے پہلے کی کتابیں دیکھی جاتی ہیں تو ان سے کس قدر انتظار اور شوق کا پتا لگتا ہے گویا وہ تیرھویں صدی کے علامات سے مضطرب اور بے قرار ہو رہے ہیں مگر جب وقت آیا تو اوّل الکافرین ٹھہرتے ہیں۔وہ جانتے تھے کہ ہمیشہ کہتے آتے تھے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد اصلاح فساد کے لیے آتا ہے اور ایک رُوحانی طبیب مفاسدِ موجودہ کی اصلاح کے لیے بھیجا جاتا ہے۔اب چاہیے تو یہ تھا کہ صدی کا سر پا کر وہ انتظار کرتے۔ضرورت کے لحاظ سے ان کو مناسب تھا کہ ایسے مجدّد کا انتظار کرتے جو کسر صلیب کے لیے آتا کیونکہ اس وقت سب سے بڑا فتنہ یہی ہے۔ایک عام آدمی سے بھی اگر سوال کیا جاوے کہ اس وقت بڑا فتنہ کون سا ہے؟ تو وہ یہی جواب دے گا کہ پادریوں کا۔۳۰ لاکھ کے قریب تو اسی ملک سے مرتد ہو گیا۔اسلام وہ مذہب تھا کہ ا گر ایک بھی مرتد ہوتا تو قیامت آ جاتی اسلام کیا اور ارتداد کیا؟ ایک طرف اس قدر لوگ مرتد ہو گئے دوسری طرف اسلام کے خلاف جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان کو جمع کریں تو کئی پہاڑ بنتے ہیں بعض پرچے ایسے ہوتے ہیں کہ کئی کئی لاکھ شائع ہوتے ہیں اور ان میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔بتائو ایسی حالت اور صورت میں اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الحجر:۱۰) کا وعدہ کہاں گیا؟اس نے وہ گالیاں