ملفوظات (جلد 4) — Page 195
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۵ جلد چهارم حضرت اقدس ۔ بات یہ ہے کہ مذاق تمسخر صحت نیت میں فرق ڈالتا ہے اور ماموروں کے لیے تو یہ سنت چلی آئی ہے کہ لوگ ان پر ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں مگر حسرت ہنسی کرنے والوں ہی پر رہ جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں فرمایا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (لیس: ۳۱) نا واقف انسان نہیں جانتا کہ اصل حقیقت کیا ہے؟ وہ ہنسی اور مذاق میں ایک بات کو اڑانا چاہتا ہے مگر تقوی ہے جو اسے راہ حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ میرا دعوی ایسا دعویٰ نہیں رہا جو اب کسی سے مخفی ہو۔ اگر تقویٰ ہو تو اس کے سمجھنے میں بھی اب مشکلات باقی نہیں رہیں۔ اس وقت صلیبی غلبہ حد سے بڑھا ہوا ہے اور مسلمانوں کا ہر امر میں انحطاط ہو رہا ہے۔ ایسی حالت میں تقویٰ کا یہ تقاضا ہے اور وہ یہ سبق دیتا ہے کہ تکذیب میں مستعجل نہ ہو۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت یہود نے جلدی کی اور غلطی کھائی اور انکار کر بیٹھے نتیجہ یہی ہوا کہ خدا کی لعنت اور اس کے غضب کے نیچے آئے۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت عیسائیوں اور یہودیوں نے غلطیاں کھائیں اور انکار کر دیا اور اس نعمت سے محروم رہے جو آپ لے کر آئے تھے۔ تقویٰ کا یہ لازمہ ہونا چاہیے کہ ترازو کی طرح حق وانصاف کے دونوں پلے برابر رکھے۔ اسی طرح اب ایسا یہ زمانہ آیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے یہ سلسلہ قائم کیا تو اسی طرح مخالفت کا شور اٹھا جیسے شروع سے ہوتا آیا ہے، یہی مولوی جو اب منکر ہیں اور کفر کے فتوے دیتے ہیں میرے مبعوث ہونے سے پہلے یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر بیان کیا کرتے تھے کہ تیرھویں صدی بہت خراب ہے جس سے بھیڑیوں نے بھی پناہ مانگی ہے اور اب چودھویں صدی آئی ہے جس میں مسیح اور مہدی آئے گا اور ہمارے دکھوں کا علاج ہوگا یہاں تک کہ اکثر ا کا برانِ اُمت نے آنے والے کو سلام کی وصیت کی اور سب نے یہ تسلیم کیا کہ جس قدر کشوف اہل اللہ کے ہیں وہ چودھویں صدی سے آگے نہیں جاتے ہیں مگر جب وہ وقت آیا اور آنے والا آگیا تو وہی زبانیں انکار اور سب وشتم کے لیے تیز ہوگئیں۔ تقویٰ کا تقاضا تو یہ تھا کہ اگر وہ تسلیم کرنے میں سب سے اول نہ ہوتے تو انکار کے لیے بھی تو جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی کم از کم تصدیق اور تکذیب کے دونوں پہلو برابر رکھتے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ بدوں