ملفوظات (جلد 4) — Page 193
۱۳؍فروری ۱۹۰۳ء صدقہ اور دعا سے بَلاٹل جاتی ہے بعدادائیگی جمعہ گر دونواح کے لوگوں نے بیعت کی اور حضرت اقدس نے ان کو ایک مختصر تقریر نماز روزہ کی پابندی اور ہر ایک ظلم وغیرہ سے بچنے پر فرمائی کہ اپنے گھروں میں عورتوں، لڑکیوں اور لڑکوں سب کو نیکی کی نصیحت کریں اور جیسے درختوں اور کھیتوں کو اگر پورا پانی نہ دیا جاوے تو وہ پھل نہیں لاتے۔اسی طرح جب تک نیکی کا پانی دل کو نہ دیا جاوے تووہ بھی انسان کے لیے کسی کام کا نہیں ہوتا۔جو نیک بن جاتا ہے اس پر یہ بَلا طاعون نہیں پڑتی۔موت تو سب کو آتی ہے اور اس کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔مگر جن موتوں میں ایک قہر کی بو ہوتی ہے وہ نہیں ہوتیں۔ہنسی اور ٹھٹھے کی مجلسوں سے پرہیز کی تاکید فرمائی۔انبیاء کی وصیت یاد دلائی کہ صدقہ اور دعا سے بَلا ٹل جاتی ہے اگر پیسہ پاس نہ ہو تو ایک بوکہ (ڈول) پانی کا کسی کو بھر دویہ بھی صدقہ ہے اپنے مال اور بدن سے کسی کی خدمت کر دینی یہ بھی صدقہ ہے۔۱ (دربارِ شام) ایک نووارداور حضرت اقدس علیہ السلام ۱۳؍فروری ۱۹۰۳ء کو ایک ڈاکٹر صاحب۲ لکھنو سے تشریف لائے بقول ان کے وہ بغدادی الاصل ہیں اور اب عرصہ سے لکھنو میں مقیم ہیں۔ان کے چند احباب نے ان کو حضرت حجۃ اللہ علیہ السلام کی خدمت میں بغرض دریافت حال بھیجا ہے چنانچہ وہ بعد مغرب حضرت اقدس علیہ السلام کے حضور حاضر ہوئے اور شرفِ ملاقات حاصل کیا جو کچھ گفتگو آپ سے ہوئی ہم اس کو ذیل میں درج کرتے ہیں۔(ایڈیٹر ) حضرت اقدس۔آپ کہاں سے آئے ہیں؟ نووارد۔میں اصل رہنے والا بغداد کا ہوں مگر اب عرصہ سے لکھنو میں رہتا ہوں اور یہاں ہی میں نے اپنے تعلقات پیدا کر لیے ہیں۔وہاں کے چند آدمیوں نے مجھے مستعد کیا کہ قادیان جاکر کچھ حالات دیکھ آئیں۔۱ البدر جلد ۲ نمبر ۶ مو رخہ ۲۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۴ ۲ البدر میں اس نووارد کانام محمد یوسف درج ہے۔(البدر جلد ۲نمبر ۶ مورخہ ۲۷ ؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۴ )