ملفوظات (جلد 4) — Page 192
ویسے ہی یہ عرش کو ایک شَے غیر مخلوق جُزاَز خدا ماننے لگتا ہے۔یہ گمراہی ہے۔اصل میں یہ کوئی شَے خدا کے وجود سے باہر نہیں ہے جنہوں نے اسے ایک شَے غیر مخلوق قرار دیا وہ اسے اتم اور اکمل نہیں مانتے اور جنہوں نے مادی مانا وہ گمراہی پر ہیں کہ خدا کو ایک مجسم شَے کا محتاج مانتے ہیں کہ ایک ڈولہ کی طرح فرشتوں نے اسے اُٹھایا ہوا ہے۔وَلَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا(البقرۃ:۲۵۶)۔چار ملائک کا عرش کو اُٹھانا یہ بھی ایک استعارہ ہے۔ربّ۔رحمٰن۔رحیم اورمالک یوم الدین یہ صفات ِالٰہی کے مظہر ہیں اور اصل میں ملائکہ ہیں اور یہی صفات جب زیادہ جوش سے کام میں ہوں گے تو ان کو آٹھ ملائک سے تعبیر کیا گیا ہے جو شخص اسے بیان نہ کرسکے وہ یہ کہے کہ ایک مجہول الکُنہ حقیقت ہے ہمارا اس پر ایمان ہے اور حقیقت خدا کے سپرد کرے۔اطاعت کا طریق یہی ہے کہ خدا کی باتیں خدا کے سپرد کرے اور ان پر ایمان رکھے۔اور اس کی اصل حقیقت یہی ہے کہ خدا کی تجلّیات ثلاثہ کی طرف اشارہ ہے۔كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ کی کنہ خدا ہی کو معلوم ہے كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ یہ بھی ایک تجلی تھی اور ماء کے معنے یہاںپانی بھی نہیں کرسکتے۔خدا معلوم کہ اس کے نزدیک ماء کے کیا معنے ہیں۔اس کی کنہ خدا کو معلوم ہے۔جنّت کے نعماء پر بھی ایسا ہی ایمان ہے۔وہاں یہ تو نہ ہوگا کہ بہت سی گائے بھینسیں ہوں گی اور دُودھ دوہ کر حوض میں ڈالا جاوے گا۔خدا فرماتا ہے کہ وہ اشیاء ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنیں اور نہ زبان نے چکھیں نہ دل میں ان کے فہم کا مادہ ہے۔حالانکہ ان کو دُودھ اور شہد وغیرہ ہی لکھا ہے جو کہ آنکھوں سے نظر آتا ہے اور ہم اسے پیتے ہیں۔اسی طرح کئی باتیں ہیں جوکہ ہم خود دیکھتے ہیں مگر نہ تو الفاظ ملتے ہیں کہ ان کو بیان کرسکیں نہ اُس کے بیان کرنے پر قادرہیں۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ اگر ان کو مادی دنیا پر قیاس کریں تو صدہا اعتراضات پیدا ہوتے ہیں۔مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسـرآءیل:۷۳) سے ظاہر ہے کہ دیدار کا وعدہ یہاں بھی ہے مگر ہم اسے جسمانیات پر نہیں حمل کرسکتے۔۱ ۱ البدر جلد۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۷،۳۸