ملفوظات (جلد 4) — Page 190
۱۱؍فروری ۱۹۰۳ء بروز چہار شنبہ عرش کے متعلق ایک صاحب نے سوال کیا کہ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ (الاعراف:۵۵)کے کیا معنے ہیں اور عرش کیا شَے ہے؟ عرش کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کی بحث عبث ہے فرمایا کہ اس کے بارے میں لوگوں کے مختلف خیالات ہیں کوئی تو اسے مخلوق کہتا ہے اور کوئی غیر مخلوق لیکن اگر ہم غیر مخلوق نہ کہیں تو پھر استویٰ باطل ہوتا ہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ عرش کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کی بحث ہی عبث ہے۔یہ ایک استعارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ درجے کی بلند ی کو بیان کیا ہے یعنی ایک ایسا مقام جو کہ ہر ایک جسم اور ہر ایک نقص سے پاک ہے اور اس کے مقابلہ پر یہ دنیا اور تمام عالم ہے کہ جس کی انسان کو پوری پوری خبر بھی نہیں ہے۔ایسے مقام کو قدیم کہا جا سکتا ہے۔لوگ اس میں حیران ہیں اور غلطی سے اسے ایک مادی شَے خیال کرتے ہیں۔اور قدامت کے لحاظ سے جو اعتراض لفظ ثُمَّ کا آتا ہے تو بات یہ ہے کہ قدامت میں ثُمَّ آ جاتا ہے جیسے قلم ہاتھ میں ہوتا ہے تو جیسے قلم حرکت کرتا ہے ویسے ہاتھ حرکت کرتا ہے مگر ہاتھ کو تقدم ہوتا ہے۔آریہ لوگ خدا کی قدا مت کے متعلق اہل اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ ا ن کا خدا چھ سات ہزار برس سے چلا آتا ہے یہ ان کی غلطی ہے۔اس مخلوق کودیکھ کر خدا کی عمر کا اندازہ کرنا نا دانی ہے۔ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ آدم سے اوّل کیا تھا اور کس قسم کی مخلوق تھی۔اس وقت کی بات وہی جانے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ(الرحـمٰن:۳۰) وہ اور اس کی صفات قدیم ہی سے ہیں مگر اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ ہر ایک صفت کا علم ہم کو دے دیوے اور نہ اس کے کام اس دنیا میں سما سکتے ہیں۔خدا کے کلام میں دقیق نظر کرنے سے پتا لگتا ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ہے اور مخلوقات کی ترتیب اس کے ازلی ہونے کی مخالف نہیں ہے اور استعارات کو ظاہر پر حمل کرکے مشہودات پر لانا بھی ایک نادانی ہے اس کی صفت ہے لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١ٞ وَ هُوَ يُدْرِكُ