ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 189

فرمایا کہ اس کا اشارہ یا تو مقدمہ کی شاخوں کی طرف معلوم ہوتا ہے یا آریہ سماج کو جو اشتہار نومسلموں نے دیا ہے اس سے جوش میں آکر وہ لوگ کچھ گندی گالیاں وغیرہ دیویں۔چنانچہ شام کو ایک اشتہار آریوں کی طرف سے نکل آیا جس میں ایسے ہی گندے الفاظ تھے اور اصل معنوں پر کوئی معقول بات نہ تھی اس پر آپ نے فرمایا کہ چونکہ الہام کے بعد نیا معاملہ یہی پیش آیا ہے ہم الہام کو اس پر چسپاں کرتے ہیں۔خدا نے اس کے مقابلہ پر کیا سامان رکھے ہیں ہمیں اس کی خبر نہیں۔ارادہ الٰہی پر تقدم بے ادبی ہے اور اسی لئے اس کے مقابل پر غضب سے بھرا ہوا اشتہار نکالنا درست نہیں اس میں نفس کے رگ و ریشے ہوں گے اس کے لئے جو راہ خدا نکالے وہ ٹھیک ہوگی۔۱ ۱۰ ؍فروری ۱۹۰۳ء یہ وقت دعا اور تضرّع کا ہے حضرت اقدس نے فرمایا ہے کہ وہ اخبارات جو کہ آپ کی مخالفت میں ہمیشہ خلاف واقعہ باتیں درج کرتے ہیں اور گند اور فحش بیانی ان کا کام ہے ان کو ہرگز نہ لیا جاوے اور نہ ان کے مقابلے پر اشتہار وغیرہ دیا جاوے۔یہ ان کو ایک اور موقع گند بکنے کا دیتا ہے۔یہ وقت دعا اور تضرّع کا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ کر دے۔۲ ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخہ ۱۳ فروری ۱۹۰۳ءصفحہ ۲۵ ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخہ ۱۳؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۵