ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 188

قسم کے ٹھٹھے اور بیہودہ باتوں اور مشرکانہ مجلسوں سے بچو۔پانچوں وقت نماز کو قائم رکھو۔غرضیکہ کوئی ایسا حکمِ الٰہی نہ ہو جسے تم ٹال دو۔بدن کو بھی صاف رکھو اور دل کو ہر ایک قسم کے بے جا کینے، بغض، حسد سے پاک کرو۔یہ باتیں ہیں جو خد اتم سے چاہتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ کبھی کبھی آتے رہو۔جب تک خدا نہ چاہے کوئی آدمی بھی نہیں چاہتا۔نیکی کی توفیق وہی دیتا ہے۔دو عمل ضرور خیال رکھو۔ایک دعا۔دوسرے ہم سے ملتے رہنا تاکہ تعلق بڑھے اور ہماری دعا کا اثر ہو۔ابتلا سے کوئی خالی نہیں رہتا۔جب سے یہ سلسلہ انبیاء اور رُسل کا چلا آرہا ہے جس نے حق کو قبول کیا ہے اس کی ضرور آزمائش ہوتی ہے۔اسی طرح یہ جماعت بھی خالی نہ رہے گی گردو نواح کے مولوی کوشش کریں گے کہ تم اس راہ سے ہٹ جا ئو۔تم کو کفر کے فتوے دیویں گے لیکن یہ سب کچھ پہلے ہی سے اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے لیکن اس کی پروا نہ کرنی چاہیے جوانمرد ی سے اس کا مقابلہ کرو۔ثابت قدمی دکھائو پھر بیعت کنندگان نے منکرین کے ساتھ نماز پڑھنے کو پوچھا۔حضرت نے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ ہرگز نہ پڑھو اکیلے پڑھ لو۔جو ایک ہوگاوہ جلد دیکھے گا کہ ایک اور اس کے ساتھ ہو گیا ہے۔ثابت قدمی دکھائو۔ثابت قدمی میں ایک کشش ہوتی ہے۔اگر کوئی جماعت کا نہ ہو تو نماز اکیلے پڑھو مگر جو اس سلسلہ میں نہیں اس کے ساتھ ہرگز نہ پڑھو، ہرگز نہ پڑھو۔جو ہمیں زبان سے بُرا نہیں کہتا وہ عملی طور سے کہتا ہے کہ حق کو قبول نہیں کرتا۔ہاں ہر ایک کو سمجھاتے رہو۔خدا کسی نہ کسی کو ضرور کھینچ لیوے گا۔جو شخص نیک نظر آوے سلام و علیک اس سے رکھولیکن اگر وہ شرارت کرے تو پھر یہ بھی ترک کر دو۔۱ ۸؍فروری ۱۹۰۳ء مورخہ ۸؍فروری کو آپ نے سیر میں فجر کا الہام سنایا ’’حَرْبٌ مُّھَیَّجَۃٌ‘‘ (جوش سے بھری ہوئی لڑائی)۔۱ البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخہ ۱۳؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۳۱