ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 185

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۵ جلد چهارم یکم فروری کو ایک دو سال کا الہام آپ نے اس کے متعلق سنایا۔ بَلِيَّةٌ مَّالِيَةٌ یعنی مالی ابتلا۔ لے ۲ فروری ۱۹۰۳ء ۲ فروری کو سیر میں حضرت اقدس نے یہ الہامات سنائے جو کہ آپ کو رات کو ہوئے۔ سَنُنَجِّيكَ - سَنُعْلِيْكَ - إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ أَهْلِكَ - سَأُكْرِمُكَ إِكْرَامًا عَجَبًا - سَمِعَ الدُّعَا إِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجِ اتِيكَ بَغْتَةً - دُعَاءُكَ مُسْتَجَابُ إِنِّي مَعَ الرَّسُولِ أَقُومُ - وَأُصَلَّى وَأَصُومُ وَأُعْطِيكَ مَا يَدُومُ ( بوقت ظهر ) حضرت احمد مرسل یزدانی علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک رؤیا ظہر کے وقت سنائی وہ ایک رویا یہ ہے کہ میں نے میرزا خدا بخش صاحب کو دیکھا ہے کہ ان کے گرتے کے ایک دامن پر لہو کے داغ ہیں۔ پھر اور داغ ان کے گریبان کے نزدیک بھی دیکھے ہیں۔ میں اس وقت کہتا ہوں کہ یہ ویسے ہی نشان ہیں جیسے کہ عبد اللہ سنوری صاحب کو جو گر تہ دیا گیا ہے اس پر تھے۔ سے ۳ فروری ۱۹۰۳ء مورخہ ۳ فروری ۱۹۰۳ ء کو سیر میں حضرت اقدس نے یہ الہام سنائے ۔ أَصَلِّي وَأَصُومُ - أَسْهَرُ وَ أَنَامُ - وَاجْعَلُ لَكَ أَنْوَارَ الْقُدُومِ - وَأَعْطِيكَ مَا يَدُومُ - بقیہ حاشیہ ) تو پھر جان و مال اور آبرو کیا شے ہے کچھ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہی تین چیزیں انسان کو عزیز ہوتی ہیں ۔“ 66 فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ( العنكبوت: (٣) فرمایا۔ ایک پرانا الہام بَلِيَّةٌ مالية ہے شاید وہ ان ایام کے لیے تھا۔ (الحکم جلدے نمبر ۶ مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷) ل البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۴ البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۲۳ البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۴