ملفوظات (جلد 4) — Page 184
ایک الہام فرمایا۔۳۰؍ جنوری ۱۹۰۳ء کی صبح کو جو الہام ہوا تھا لَایَـمُوْتُ اَحَدٌ مِّنْ رِّجَالِکُمْ۱ اس کے معنی ابھی نہیں کھلے۔مگر یہاں حقیقی معنی تو موت کے نہیں ہوسکتے کیونکہ انبیاء پر بھی یہ آئی ہے۔غالباً اور کوئی معنی ہوں گے۔۲ یکم فروری ۱۹۰۳ء امتحا ن کے وقت جماعت کو استقامت کی بہت دعا کرنی چاہیے آپؑنے فرمایا کہ یہ وقت جماعت کے امتحان کا ہے۔دیکھیں کون ساتھ دیتا ہے اور کون پہلوتہی کرتا ہے۔اس لیے ہمارے بھائیوں کو استقامت کی بہت دعاکر نی چاہیے اور انفاق فی سبیل اللہ کے لیے وسیع حوصلہ ہو کر مال و زر سے ہر طرح سے امداد کے لیے طیار ہونا چاہیے۔ایسے ہی وقت ترقی درجات کے ہوتے ہیں۔ان کو ہاتھ سے نہ گنوانا چاہیے۔۳ البدر میں مذکورہ الہام کی تشریح کرتے ہوئے کچھ مزید فقرے درج ہیں وہاں لکھا ہے۔’’عشاء سے قبل حضرت اقدس نے یہ الہام سنایا۔’’ لَا یَـمُوْتُ اَحَدٌ مِّنْ رِّجَالِکُمْ اور فرمایا کہ اس کے حقیقی معنے کہ تمہارے رجال میں کوئی نہ مَرے گا تو ہو نہیں سکتے کیونکہ موت تو انبیاء تک کو آتی ہے اور نہ قیامت تک کسی نے زندہ رہنا ہے مگر اس کے مفہوم کا پتا نہیں ہے۔شاید کوئی اور معنےہوںـ۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳ مو رخہ ۶ ؍فروری ۱۹۰۳ءصفحہ ۲۴) ۲ الحکم جلد ۷ نمبر ۶ مورخہ ۱۴؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۵ تا ۷ ۳الحکم میں فروری کی ڈائری بغیر تاریخ کے درج ہے۔البدر میں درج شدہ یکم فروری کی ڈائری کے مضمون سے اس کی مطابقت ظاہر کرتی ہے کہ یہ ڈائری یکم فروری کی ہے۔لکھا ہے۔فرمایا۔’’ براہین میں یہ بھی الہام ہے اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ وَتَمَّتْ کَلِمَاتُ رَبِّکَ وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ۔ہماری جماعت پر بھی ایک فتنہ ہے۔صحابہ پر بھی فتنہ ہوا۔مگر فتنہ کا پتا نہیں کہ کون سا فتنہ ہے اور کس راہ کا ہے۔مگر جب انسان خدا کا ہو جاوے