ملفوظات (جلد 4) — Page 183
ہے۔نجات اسی کو ملتی ہے جو دل کا صاف ہے۔جو صاف دل نہیں وہ اُچکّا اور ڈاکو ہے۔خدا تعالیٰ اسے بری طرح ما ر تا ہے۔اب یہ طاعون کے دن ہیں ابھی تو ابتدا ہے۔؎ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ آخر کی خبر نہیں مگر جوابتدائی حالت میں اپنے آپ کو در ست کریں گے وہ خدا کی ر حمت کا بہت بڑا حق رکھتے ہیں مگر جو لوگ صاعقہ کی طرح دیکھ کر ایمان لاویں گے ممکن ہے کہ ان کی توبہ قبول نہ ہو یا توبہ کا موقع ہی نہ ملے۔ابتدا والے ہی کا حق بڑا ہوتا ہے۔قاعدہ کے موافق ۱۵ یا ۲۰ دن اَور طاعون کے روزہ کے ہیں اور آرام کی شکل نظر آتی ہے مگر وقت آتا ہے کہ پھر روزہ کھولنے کا زمانہ شروع ہوگا۔اب خدا کے سوا کوئی عاصم نہیں ہے۔ایماندار قبول نہیں کرسکتا کہ خدا کے ارادہ کے خلاف کوئی بچ سکتا ہے۔فائدہ اور ا من کی ایک ہی راہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسا جھکے کہ خود محسوس کرلے کہ اب میں وہ نہیں رہا ہوں اور مصفّٰی قطرہ کی طرح ہو جاوے۔مخالفت کی شدت خدا کی قدرت ہے کہ جوں جوں طاعون کا زمانہ قریب آتا جاتا ہے شور اور مفسدہ مخالفت کا بڑھتا جاتا ہے ان کو ذرا بھی خدا کا خوف نہیں ہے۔فرمایا۔آج مجھے خیال آیا کہ شاید یَاْتِیْ عَلَیْکَ زَمَنٌ کَمِثْلِ زَمَنِ مُوْسٰی والا الہام اور محاصرہ والی حدیث اسی طرح پوری ہو کہ مقدمات کثرت سے کردیں جیسے حضرت مو سیٰ کے سامنے نیل سے اور پیچھے لشکر فرعون سے محصور ہو گئے تھے اور ایسی خوفناک صورتیں پیدا ہوں کہ بعض کمزورطبیعت والے چلّائیں کہ ہم پکڑے گئے۔اس لئے خدا نے ایسے کمزوروں کو پہلے سے تسلّی دے دی کہ یہ مضبوط اور قوی دل ہو جائیں۔براہین احمدیہ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ ایک وقت ناخنوں تک زور لگائیں گے اس وقت خدا تیر ے ساتھ ہوگا وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔اب خدا تعالیٰ نے جو دن مقرر کیے ہوئے ہیں وہ اگر نہ آویں تو ثواب کیسے ملے۔براہین میں اَور بھی بعض خوفناک صور تیں مذکور ہیں اور انجام کار وہی ہوگا جس کی خدا نے خبر دی ہے اور ارادہ فرمایا ہے۔