ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 183

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۳ جلد چهارم ہے۔ نجات اسی کو ملتی ہے جو دل کا صاف ہے۔ جو صاف دل نہیں وہ اُچکا اور ڈاکو ہے۔ خدا تعالیٰ اسے بری طرح مارتا ہے ۔ اب یہ طاعون کے دن ہیں ابھی تو ابتدا ہے۔ ه ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ آخر کی خبر نہیں مگر جو ابتدائی حالت میں اپنے آپ کو درست کریں گے وہ خدا کی رحمت کا بہت بڑا حق رکھتے ہیں مگر جو لوگ صاعقہ کی طرح دیکھ کر ایمان لاویں گے ممکن ہے کہ ان کی توبہ قبول نہ ہو یا تو بہ کا موقع ہی نہ ملے۔ ابتدا والے ہی کا حق بڑا ہوتا ہے۔ قاعدہ کے موافق ۱۵ یا ۲۰ دن اور طاعون کے روزہ کے ہیں اور آرام کی شکل نظر آتی ہے مگر وقت آتا ہے کہ پھر روزہ کھولنے کا زمانہ شروع ہوگا۔ اب خدا کے سوا کوئی عاصم نہیں ہے۔ ایماندار قبول نہیں کر سکتا کہ خدا کے ارادہ کے خلاف کوئی بچ سکتا ہے۔ فائدہ اور امن کی ایک ہی راہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسا جھلکے کہ خود محسوس کر لے کہ اب میں وہ نہیں رہا ہوں اور مصفی قطرہ کی طرح ہو جاوے۔ مخالفت کی شدت خدا کی قدرت ہے کہ جوں جوں طاعون کا زمانہ قریب آتا جاتا ہے شور ہے۔ اور مفسدہ مخالفت کا بڑھتا جاتا ہے ان کو ذرا بھی خدا کا خوف نہیں فرمایا ۔ آج مجھے خیال آیا کہ شاید يَأْتِي عَلَيْكَ زَمَنْ كَمِثْلِ زَمَنِ مُوسَی والا الہام اور محاصرہ والی حدیث اسی طرح پوری ہو کہ مقدمات کثرت سے کر دیں جیسے حضرت موسیٰ کے سامنے نیل سے اور پیچھے لشکر فرعون سے محصور ہو گئے تھے اور ایسی خوفناک صورتیں پیدا ہوں کہ بعض کمزور طبیعت والے چلا ئیں کہ ہم پکڑے گئے ۔ اس لئے خدا نے ایسے کمزوروں کو پہلے سے تسلی دے دی کہ یہ مضبوط اور قوی دل ہو جائیں ۔ براہین احمدیہ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ ایک وقت ناخنوں تک زور لگا ئیں گے اس وقت خدا تیرے ساتھ ہوگا وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۔ اب خدا تعالیٰ نے جو دن مقرر کیے ہوئے ہیں وہ اگر نہ آئیں تو ثواب کیسے ملے ۔ براہین میں اور بھی بعض خوفناک صورتیں مذکور ہیں اور انجام کار وہی ہوگا جس کی خدا نے خبر دی ہے اور ارادہ فرمایا ہے۔