ملفوظات (جلد 4) — Page 182
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۲ جلد چهارم بچائے جاؤ گے۔ مومن پر دو موتیں جمع نہیں ہوتیں ہیں۔ جب وہ سچے دل سے اور صدق اور اخلاص کے ساتھ خدا کی طرف آتا ہے پھر طاعون کیا چیز ہے؟ کیونکہ صدق اور وفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کا ہونا یہ بھی ایک موت ہے جو ایک قسم کی طاعون ہے مگر اس طاعون سے ہزار ہا درجہ بہتر ہے کیونکہ خدا کا ہونے سے نشانہ طعن تو ہونا ہی پڑتا ہے پس جب مومن ایک موت اپنے اوپر اختیار کر لیوے تو پھر دوسری موت اس کے آگے کیا شے ہے؟ مجھے بھی الہام ہوا تھا کہ آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے ۔ ہر مومن کا یہی حال ہوتا ہے اگر وہ اخلاص اور وفاداری سے اس کا ہو جاتا ہے تو خدا اس کا ولی بنتا ہے لیکن اگر ایمان کی عمارت بوسیدہ ہے تو پھر بے شک خطرہ ہوتا ہے۔ ہم کسی کے دل کا حال تو جانتے ہی نہیں ۔ سینہ کا علم تو خدا کو ہی ہے مگر انسان اپنی خیانت سے پکڑا جاتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ سے معاملہ صاف نہیں تو پھر بیعت فائدہ دے گی نہ کچھ اور لیکن جب خالص خدا ہی کا ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس کی خاص حفاظت کرتا ہے۔ اگر چہ وہ سب کا خدا ہے مگر جو اپنے آپ کو خاص کرتے ہیں ان پر خاص تجلی کرتا ہے۔ اور خدا کے لیے خاص ہونا یہی ہے کہ نفس بالکل چکنا چور ہو کر اس کا کوئی ریزہ باقی نہ رہ جاوے اس لیے میں بار بار ا پنی جماعت کو کہتا ہوں کہ بیعت پر ہرگز ناز نہ کرو۔ اگر دل پاک نہیں ہے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کیا فائدہ دے گا جب دل دور ہے جب دل اور زبان میں اتفاق نہیں اور پھر میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر منافقانہ اقرار کرتے ہیں تو یا د رکھو ایسے شخص کو دو ہرا عذاب ہوگا مگر جو سچا اقرار کرتا ہے اس کے بڑے بڑے گناہ بخشے جاتے ہیں اور اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ میں تو زبان ہی سے کہتا ہوں دل میں ڈالنا یہ خدا کا کام ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھانے میں کیا کسر باقی رکھی تھی ؟ ابو جہل اور اس کے امثال نہ سمجھے آپ کو اس قدر فکر اور غم تھا کہ خدا نے خود فر ما یا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مگر کس قدر ہمدردی تھی ۔ آپ چاہتے تھے کہ وہ ہلاک ہونے سے بچ جاویں مگر وہ بچ نہ سکے۔ حقیقت میں معلم اور واعظ کا تو اتنا ہی فرض ہے کہ وہ بتاوے۔ دل کی کھڑکی تو خدا ہی کے فضل سے کھلتی