ملفوظات (جلد 4) — Page 173
کوئی بات دل میں ڈالتا ہے تو دلوں کو ایسا پکڑتا ہے کہ باز اس طرح چڑیا کو پکڑ نہیں سکتا۔اصل سلطنت اُسی کی سلطنت ہے۔کیسے سے کیسا دشمن ہو مگر وہ اس کو بھی پکڑ لیتا ہے۔رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ بالکل ٹھیک ہے لوگ ملائکہ سے تعجب کرتے ہیں۔میرے نزدیک تو یہ سب ملائک ہیں۔ورنہ لقمہ جو اندر ڈالا جاتا ہے اگر وہ نہ چاہے تو کب ہضم ہوسکتا ہے۔بغیر کامل تصرّف کے خدا کی خدائی چل سکتی ہی نہیں اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ (بنیٓ اسـرآءیل: ۴۵) کے یہی معنے ہیں۔اسلام اور ایمان وہی ہے جو اس حد تک پہنچے اور اسی کو چھوڑ چھاڑ کر اب صرف رسم اور عادت رہ گئی ہے۔جن کی یہ حالت ہے ان کو دعائوں میں کیا مزا آسکتا ہے۔۱ عقیدہ وحدت الوجود جالندھر سے ایک صاحب تشریف لائے ہوئے تھے انہوں نے عرض کی کہ وہاں وجودیوں کا بہت زور ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ اصل میں ان لوگوں کا اباحتی رنگ ہے۔دہریوں میں اور ان میں بہت کم فرق ہے ان کی زندگی بے قیدی کی زندگی ہوتی ہے۔خدا کے حدود اور فرائض کابالکل فرق نہیں کرتے۔نشہ وغیرہ پیتے ہیں، ناچ رنگ دیکھتے ہیں۔زنا کو اُصول سمجھتے ہیں۔ایک دفعہ ایک وجود ی میرے پاس آیا اور کہا کہ میں خدا ہوں۔اُس نے ہاتھ آگے بڑھایا ہوا تھا میں نے اُس کے ہاتھ پر زور سے چٹکی کاٹی حتی کہ اس کی چیخ نکل گئی تو میں نے کہا کہ خدا کو درد بھی ہوا کرتا ہے اور چیخ بھی نکلا کرتی ہے؟ پھر نووارد صاحب نے بیان کیا کہ وہ کہا کرتے ہیں کہ انسان کو خدا نے اپنی صورت پر بنایا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ توریت میں یہ ذکر ہے اس کامطلب یہ ہے کہ تَـخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللہِ یعنی خدا نے چاہا کہ انسان خدا کے اخلاق پر چلے۔جیسے وہ ہر ایک عیب اور بدی سے پاک ہے یہ بھی پاک ہو۔جیسے اس میں عدل، انصاف اور علم کی صفت ہے وہی اس میں ہو اس لیے اس خُلق کو احسن تقویم کہا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخہ ۲۷؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۳