ملفوظات (جلد 4) — Page 171
چاند کو ہوتی ہے اور اسی لیے یہ لفظ قمر پر بھی اس کی آخری راتوں میں بولا جاتا ہے جب کہ اس کا نور جاتا رہتا ہے اور خسوف کی حالت میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔قرآن شریف میں مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ (الفلق:۴) کے یہ معنے ہیں مِنْ شَـرِّ ظُلْمَۃٍ اِذَا دَخَلَ یعنی ظلمت کی برائی سے جب وہ داخل ہو۔میں نے اس سے پیشتر یہ خیال کیا تھا کہ چونکہ عنقریب گھر میں وضع حمل ہونے والا ہے تو شاید مولود کی وفات پر یہ لفظ دلالت کرتا ہے مگر بعد میں غور کرنے سے معلوم ہوا کہ اس سے مراد ابتلا ہے۔اجتہادی امور ایسے ہی ہوا کرتے ہیں کہ اوّل خیال کسی اَور طرف چلا جاتا ہے۔غرض یہ کہ اس کے معنے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی اَمر بطور ابتلا کے ہے اور اس سے جماعت کا ابتلا مراد نہیں ہے بلکہ منکرین کا جو کہ جہالت، نادانی، افترا سے کام لیتے ہیں۔آدم ؑ سے لے کر آخر تک اللہ تعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ دشمنوں کو بھی ان کی افترا وغیرہ کے لیے ایک موقع دیتا ہے۔چنانچہ بعض وقت کوئی شکست بھی ہو جایا کرتی ہے قرآن شریف میں اس کا ذکر ہے اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (اٰل عـمران:۱۴۱)۔خدا تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو فرماتا ہے کہ اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے تو تم نے بھی اپنے مخالفین کا ستیا ناس کر دیا ہواہے۔اگر ہمارا یہ کاروبار قلم کا نہ ہوتا بلکہ تلوار سے کام لیتے تو آخر ہمیں بھی کوئی نہ کوئی شکست ہونی ہی تھی۔یہ موقع افترا کے خدا تعالیٰ دشمنوں کو اس لیے دیتا رہتا ہے کہ مقدمہ جلد ختم نہ ہو اور یہ سنّت اللہ ہے۔اب غور سے دیکھا جاوے تو اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل میں فتح تھی۔مگر دشمن کو فضیلت سے کیا مطلب اسے تو موقع چاہیے۔ادھر آتھم کا مقدمہ ادھر مقابلہ پر لیکھرام کا قتل۔ان کی مثال ٹھیک اُحد اور بدر کی لڑائی تھی۔كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِيْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوْا(البقرۃ:۲۱) منافقوں کا کام ہے مگر یہ لوگ قَامُوْا میں داخل ہیں۔احتیاط سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتے۔تاریکی جب خدا کی طرف منسوب ہوتو دشمن کی آنکھ میں ابتلا کا موقع اس سے مراد ہوتا ہے اور اس لیے اس کو غَاسِقُ اللہِ کہتے ہیں۔اس کے بعد حضرت اقدس نے گھر کے حالات سنائے کہ رات کو ان کو بہت تکلیف تھی۔آخر خدا نے آرام دے دیا مگر میرا ایمان اور یقین ہے کہ یہ تمام