ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 167

انجیل کے ذکر پر فرمایا کہ عیسائی لوگ جو حضرت عیسیٰ کو خاتم نبوت کہتے ہیں اور الہام کا دروازہ بند کرتے ہیں حالانکہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح کے بعد ایک یوحنا گذرا ہے جس نے نبوت کی اور اس کے مکاشفات کی ایک الگ کتاب انجیلوں میں ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں۔ختم نبوۃ پر محیی الدین ابن عربی کا یہی مذہب ہے کہ تشریعی نبوت ختم ہو چکی ورنہ ان کے نزدیک مکالمہ الٰہی اور نبوۃ میں کوئی فرق نہیں ہے اس میں علماء کو بہت غلطی لگی ہے۔خود قرآن میں النّبیّین جس پر ال پڑا ہے موجود ہے۔اس سے مراد یہی ہے کہ جو نبوت نئی شریعت لانے والی تھی وہ اب ختم ہوگئی ہے۔ہاں اگر کوئی شخص کسی نئی شریعت کا دعویٰ کرے تو کافر ہے اور اگر سرے سے مکالمہ الٰہی سے انکار کیا جاوے تو پھر اسلام تو ایک مُردہ مذہب ہوگا اور اس میں اور دوسرے مذاہب میں کوئی فرق نہ رہے گا کیونکہ مکالمہ کے بعد اَور کوئی ایسی بات نہیں رہتی کہ وہ ہوتو اسے نبی کہا جاوے۔نبوت کی علامت مکالمہ ہے لیکن اب اہلِ اسلام نے جو یہ اپنا مذہب قرار دیا ہے کہ اب مکالمہ کا دروازہ بند ہے۔اس سے تو یہ ظاہر ہے کہ خدا کا بڑا قہر اسی اُمّت پر ہے۔۱ اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ: ۶،۷) کی دعا ایک بڑا دھوکا ہو گی اور اُس کی تعلیم کا کیا فائدہ ہوا گویا یہ عبث تعلیم خدا نے دی۔نبوت کے واسطے کثرت مکالمہ شرط ہے ہاں نبوت کے واسطے کثرت مکالمہ شرط ہے یہ نہیں کہ ایک دو فقرہ گا ہ گاہ الہام ہوئے بلکہ نبوت کے مکالمہ میں ضروری ہے کہ اس کی کیفیت صاف ہو اور کثرت سے ہو۔الحکم میں یہ عبارت یوں ہے۔’’مکالمہ الٰہی کا اگر انکار ہو تو پھر اسلام ایک مُردہ مذہب ہوگا۔اگر یہ دروازہ بھی بند ہے تو اس اُمّت پر قہر ہوا، خیر الامم نہ ہوئی اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ دعا بے سود ٹھہری۔تعجب ہے کہ یہود تو یہ اُمّت بن جاوے اور مسیح دوسروں سے آوے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۵ مورخہ ۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ )