ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 164

اچھا نہیں ہوا کرتا۔اسی لیے گورنمنٹ کا فرض ہے کہ اس غلطی کا ازالہ کرے۔۱ ۲۵؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز یک شنبہ(قبل از عشاء) عشاء کے وقت آپؑنے یہ تجویز کی کہ بیعت کا رجسٹر بالکل اطمینان کی صورت میں نہیں معلوم ہوتا۔اس لیے اب آئندہ اس کے فارم چھپواکر ایسی طرح سے رکھا جاوے کہ جب چاہیں فوراً تعداد مل جاوے اور اپنی جماعت کی تعداد معلوم کرنے کے واسطے مَردم شماری کا محتاج نہ ہونا پڑے۔کیونکہ اگر سب بیعت کنندگان کے نام محفوظ ہوں تو ان کو ضروری ضروری باتیں پہنچائی جاسکتی ہیں۔۲ ۲۶؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز دو شنبہ(بوقتِ ظُہر) حضور نے تشریف لا کر مولوی محمد احسن صاحب امروہی کو فرمایا کہ مَیں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ آپ میرے سامنے جائفل اور ایک گانٹھ نہیں معلوم سپاری کی یا سونٹھ کی پیش کرکے کہتے ہیں کہ یہ کھانسی کا علاج ہے۔اس کے دیکھنے کے بعد مجھے دوگھنٹہ تک کھانسی سے بالکل آرام رہا حالانکہ اس سے پیشتر مجھے کھانسی دم نہ لینے دیتی تھی۔مولوی عبدالکریم صاحب نے بیان کیا کہ رات کو میں نے خواب دیکھا کہ سلطان احمد (حضور کے لڑکے) آئے ہوئے ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ میرے گھر میں ایک ایسی ہی خواب آئی تھی اس کی وہی تعبیر بتلائی جو آپ نے سمجھی یعنی خدا کی طرف سے کوئی نشان ظاہر ہوگا۔سُلطان سے مُراد براہین اور نشان ہوا کرتا ہے۔۱ البدرجلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۶،۳۷ ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۷