ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 162

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۲ جلد چهارم ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ء ۶ بروز شنبه ( قبل از عشاء ) فرمایا کہ اب بارش ہونے کی وجہ سے گردو غبار کم ہو گیا۔ ایک دو دن ذرا باہر ہو آئیں ۔ ( یعنی سیر کو جایا کریں) کرم دین کے مقدمہ کے حالات پر فرمایا۔ زمینی سلطنت تو صرف آسمانی سلطنت کے اظلال و آثار ہیں ۔ بغیر آسمان کے یہ سلطنت کیا کر سکتی ہے۔ انسان بھی کیا عجیب شے ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ صدق وصفا میں ترقی کرے تو نُور عَلَى نُورٍ ۔ ورنہ اگر ظلمت میں گرے تو اس درجہ تک گرتا ہے کہ کوئی حصہ تقوی کا اس کے قول وفعل و اخلاق میں باقی نہیں رہتا سب ظلمت ہی ظلمت ہو جاتا ہے۔ فرمایا ۔ آج ایک کشف میں دکھایا گیا تَفْصِيلُ مَا صَنَعَ اللهُ فِي هَذَا الْبَأْسِ بَعْدَ مَا أَشَعُتُهُ فِي النَّاسِ اس کے بعد الہامی صورت ہو گئی اور زبان پر یہی جاری تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدمہ کے متعلق جو قبل از وقت پیشگوئی کے رنگ میں بتلایا تھا آپ اس کی تفصیل ہوگی ۔ فرمایا کہ جہلم سے واپسی پر یہ الہام ہوا تھا آفَانِین آیات ۔ ثناء اللہ کے ذکر پر فرمایا کہ اگر اس کی نیت نیک ہوتی تو ہمارا پیش کردہ طریق ضرور قبول کرتا۔ ہماری نیک نیتی تھی کہ ہم نے اس کے لیے ایسی راہ تجویز کی کہ امن قائم کرے، حق ظاہر ہو جاوے۔ لوگوں میں اشتعال اور فسادنہ ہو اور عوام الناس کو فائدہ بھی پہنچ جاوے۔ اگر اس کے دل میں تقوی ہوتی تو ضرور مان لیتا اور ہم ہم نے عام اجازت دی تھی کہ ہر گھنٹہ کے بعد پھر اپنے شکوک و شبہات پیش کر دیوے خواہ اس طرح ایک ماہ تک کرتا رہتا اور اس طرح نیک نیتی سے اگر کوئی اپنی تشقی چاہے تو ہم اسے چھ ماہ تک اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور اس کا سب بوجھ برداشت کر سکتے ہیں مگر ان لوگوں کی نیت درست نہیں ہوتی اس لئے