ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 161

عجب حیرت ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ یہاںتازہ بتازہ سامان تقویٰ کے جماعت کے واسطے طیار کر رہا ہے اُس طرف(یعنی منکرین کی طرف)اس کا کوئی نشان بھی نہیں ہے یہ لوگ الہام اور تقویٰ سے دور ہوتے جاتے ہیں اگر اب ان سے پوچھا جاوے کہ اہل حق کی کیا علامات ہیں؟ تو ہرگز نہیں بتلا سکتے اور نہ اس بات پر قادر ہوسکتے ہیں کہ صادق اور کاذب کے درمیان کوئی مابہ الامتیاز قائم کریں۔ہماری مخالفت میں یہ حالت ہے کہ جو کچھ صادق کے لئے خدا نے مقرر کیا تھا اب ان کے نزدیک گویا کاذب کو دے دیا گیا ہے۔جس قدر نکتہ چینیاں بیان کرتے ہیں وہ تمام پیغمبروں پر صادق آئی ہیں۔کمتر تقویٰ ان کے لیے یہ تھاکہ خاموش رہتے اگر ہم کاذب ہوتے تو رفتہ ر فتہ خود تباہ ہوجاتے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ(بنیٓ اسـرآءیل : ۳۷)۱ یہاںعلم سے مراد یقین ہے اب ان کی وہی مثال ہے لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا(الاعراف:۱۸۰ )۔مقدمہ جہلم پر جو بعض خلاف واقعہ باتیں اخبارات نے لکھی تھیں ان پر فرمایا کہ اس شور وغوغا کا جواب بجزخاموشی کے اور کیا ہے اُفَوِّضُ اَمْرِيْۤ اِلَى اللّٰهِ۔اس کے بعد ایک شخص نے کھڑے ہو کر عر ض کی کہ میرے باپ اور قوم کے واسطے ہدایت کی دعا کی جاوے حضرت اقدس نے اسی وقت دست مبارک اٹھا کر دعا کی اور کل حاضرین مجلس بھی شریک ہوئے۔حضرت کی خدمت میں ایک شخص کی شکایت ہوئی کہ یہ دعویٰ تو بیعت کا کرتا ہے مگر اس کی زبان سے بعض ایسے کلمات نکلتے ہیں جس سے کوئی خصوصیت حضور کے دعاوی کی تصدیق کی معلوم نہیں ہوتی۔فرمایا۔ایسے مشکوک الحال آدمی کا رکھنا اچھا نہیں۔مگر جب اس نے معذرت کی اور کہا کہ یہ اَمر غلطی سے ایسا سمجھاگیا ہے تو فرمایا۔ایسی باتوں سے انسان بیعت سے خارج ہو جاتا ہے ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے اور اسے معاف کرد یا۔۲ الحکم میں اس آیت کی تشریح بزبان فارسی یہ لکھی ہے۔’’مُراد از علم یقین است۔ظنون را علم نمے گویند۔ایناں اتبا عِ ظن میکنند اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا (یونس :۳۷)۔‘‘ (الحکم جلد۷ نمبر۵ مورخہ۷؍فروری۱۹۰۳ء صفحہ۱۴ ) ۲ البدرجلد ۲ نمبر۵ مو ر خہ ۲۰ ؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۶