ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 9

ہے لیکن کشف میں مکان نہیں بدلتا۔کبھی غنودگی میں ہوتا ہے اور کبھی بیداری میں اور باوجود غنودگی کے حصہ کے پھر بھی ہر ایک آواز کو سنتا ہے جانتا ہے کہ فلاں مکان میں مَیں ہوں ایک دفعہ میں نے فرشتوں کو انسان کی شکل پر دیکھایاد نہیں کہ دو تھے یا تین، آپس میں باتیں کرتے تھے اور مجھے کہتے تھے کہ تو کیوں اس قدر مشقّت اٹھاتا ہے اندیشہ ہے کہ بیمار نہ ہو جاوے میں نے سمجھا کہ یہ جو چھ ماہ کے روزے رکھے ہیں ان کی طرف اشارہ ہے۔(اس مقام پر حضرت اقدس نے اپنا واقعہ مجاہدہ اور ششماہی روزہ کا بیان فرمایا جو کہ البدر نمبر ۱ میں زیر عنوان اُسوہ حسنہ کے درج ہے)۔فرمایا کہ ان روزوں کو میں نے مخفی طور پر رکھا بعض دفعہ اظہار میں سلبِ رحمت کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے مخفی رکھنا اچھا ہوتا ہے چونکہ میں مامور تھا اس لئے کوئی مرض وغیرہ نہ ہوا ورنہ اگر کوئی اَور ہوتا اور اس قدر شدت اٹھاتا تو ضرور مسلول، مدقوق یا مجنون ہو جاتا۔پھر ایک دفعہ مجھے ایک فرشتہ آٹھ یا دس سالہ لڑکے کی شکل پر نظر آیا اس نے بڑے فصیح اور بلیغ الفاظ میں کہا کہ خدا تمہاری ساری مرادیں پوری کرے گا۔اسی طرح ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ایک نالی شرقاً اور غرباً بہت لمبی صدہا میل تک کھدی ہوئی ہے اور اس کے اوپر بے شمار بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک بھیڑ کے سر پر ایک قصاب ہاتھ میں چُھری لئے ہوئے طیار بیٹھا ہے اور آسمان کی طرف ان کی نظر ہے جیسے حکم کا انتظار ہے میں اس وقت اس مقام پر ٹہل رہا ہوں اور ان کو دیکھ رہا ہوں ان کے نزدیک جا کر میں نے کہا قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُ كُمْ (الفرقان: ۷۸) انہوں نے اسی وقت چُھریاں پھیردیں کہ حکم ہوگیا۔معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ خلیفہ جو ہوتا ہے وہ آسمان سے ہوتا ہے اس لئے میں نے جو آوازدی تو انہوں نے سمجھا کہ حکم ہو گیا اور جو آواز آسمان سے آنی تھی وہ میں نے کہی جب وہ بھیڑیں تڑپیں تو انہوں نے کہا کہ تم چیز کیا ہو میلاکھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔ان ایام میں ۷۰ ہزار آدمی ہیضہ سے مَراتھا ۱۸۸۲ء کا ذکرہے۔لیکھرام کے متعلق کشف اس کے بعد حضرت اقدس نے لیکھرام کے متعلق کشف کا ذکر کیا جو کہ برکات الدعاء کے ٹائیٹل پیج پر چھپا ہوا ہے۔