ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 157

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۷ جلد چهارم ۲۲ جنوری ۱۹۰۳ء بروز پنجشنبه (بوقت ظهر) ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں ایک عریضہ گذرانا۔ جس میں یہ فاسد خیالات کا علاج تحریر تھا کہ وہ ہر طرف افلاس سے گھرا ہوا۔ سے گھرا ہوا ہے اور ایسے ایسے خیالات اس کے دماغ میں آتے ہیں جن سے اسے موت بہتر معلوم ہوتی ہے اور حضرت اقدس سے اس کا علاج چاہا تھا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایسے خیالات کا علاج یہی ہوا کرتا ہے کہ آہستہ آہستہ خوف خدا پیدا ہوتا جاوے اور کچھ آرام کی صورت بنتی جاوے گھبرانے کی بات نہیں ہے رفتہ رفتہ ہی دور ہوں گے۔ جو گندے خیالات لے بے اختیار دل میں پیدا ہوتے ہیں ان سے انسان خدا کی درگاہ میں مواخذہ کے قابل نہیں ہوا کرتا بلکہ ایسے شیطانی خیالوں کی پیروی سے پکڑا جاتا ہے ہے وہ خیالات جو کہ اندر پیدا ہوتے ہیں وہ انسانی طاقت سے باہر اور مرفوع القلم ہیں۔ بے صبری نہ چاہیے۔ جلدی سے یہ بات طے نہیں ہوا کرتی ۔ وقت آوے گا تو دور ہوں گی۔ توبہ استغفار میں لگے رہیں اور اعمال میں اصلاح کریں۔ ایسے خیالات کا تخم زندگی کے کسی گذشتہ حصہ میں بویا جاتا ہے تو پیدا ہوتے ہیں اور جب دور ہونے لگتے ہیں تو یک دفعہ ہی دور ہو جاتے ہیں خبر بھی نہیں ہوتی جیسے چکی کی بیماری کہ جب جانے لگے تو ایک دم ہی چلی جاتی ہے اور پتا نہیں لگتا۔ گھبرانے سے اور آفت پیدا ہوتی ہے۔ آرام سے خدا سے مدد مانگے ۔ خدا کی بارگاہ کے سب کام آرام ہی سے ہوتے ہیں۔ جلدی وہاں منظور نہیں ہوتی ہے اور نہ کوئی ایسی مرض ہے کہ جس کا علاج وہاں نہ ہو۔ ہاں صبر سے لگا ر ہے اور خدا کی آزمائش نہ کرے۔ جب خدا کی آزمائش لے الحکم میں ہے۔ فرمایا ایسے خیالات کا علاج خدا تعالیٰ کا خوف ہے جب یہ پیدا ہو جاوے تو پھر آہستہ آہستہ کوئی الحکم جلدے نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۳ ءصفحہ ۱۳ ) وو صورت اطمینان نکل آتی ہے ۔“ کے الحکم میں یہ فقرہ یوں ہے۔ 66 گندے خیالات جو انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ان سے کوئی مواخذہ نہیں کیا جاتا۔ البتہ جب ان پر عزم کر لیا جاوے تو وہ قابل مواخذہ ہو جاتے ہیں ۔ الحکم جلدے نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۳ )