ملفوظات (جلد 4) — Page 156
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۶ جلد چهارم تھی اور دوسرے بھی جس قدر معاصی مثل شراب وغیرہ تھے ان تمام میں میں مبتلا تھا۔ چند دن ہوئے کہ میں نے ایک ہندو سے اسی طرح ظلم کیا اور اس کے حقوق ضبط کئے رات کو جب میں سویا تو خواب میں کیا دیکھتا ہوں وہی ہندو میرے ساتھ کلام کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ یا تو خدا تجھے ہدایت کرے یا تجھے اس دنیا سے اٹھالیوے تا کہ ہم لوگ تیرے مظالم سے نجات پاویں اس کے بعد وہ نظر سے غائب ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک شعلہ نور کا گرا اور جس مکان میں میں تھا اس دروازے کی طرف آیا۔ میں اٹھ کر اسے دیکھنے لگا تو دیکھا کہ حضور ( حضرت مسیح موعود ) کی شکل کا ایک آدمی ہے۔ میں نے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ کیا تو نام نہیں جانتا؟ اس کے بعد کہا کہ اب بس کر بہت ہوئی ہے پھر میں نے نام پوچھا تو بتلایا میرزاغلام احمد قادیانی“ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں اپنے افعال اور کردار پر نادم ہوں اور اب اسی خواب کے ذریعہ آپ کے پاس آیا ہوں ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ تم کو خدا نے خبردار کیا ہے کہ اپنی حالت بدل دو اور مجھو کہ ایک دن موت آنی ہے۔ خدا کا دستور ہے کہ وہ گنہگار کو بلا سزا دیئے نہیں چھوڑتا۔ تو بہ کرنے سے گناہ بخشے جاتے ہیں خدا تعالیٰ بہت ہی رحم کرنے والا ہے مگر سزا بھی بہت دینے والا ہے۔ تمہاری فطرت میں کوئی نیکی ہوگی ورنہ عام طور پر اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ اس طرح سے خبر دیوے اس لیے اپنی زندگی کو بدلو اور عادتوں کو ٹھیک کرو۔ پھر اس تائب نے عرض کی کہ میرا ایک مقدمہ چودہ صد روپے کا داخل دفتر ہو گیا ہے مگر اس میں میرا حق بہت تھوڑا ہے اب اسے برآمد کراؤں کہ نہ؟ فرمایا ۔ مدعا علیہ سے مل کر صلح کر لو۔ البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۴، ۳۵