ملفوظات (جلد 4) — Page 152
آخری سلسلہ ایسا ہوتا ہے کہ اجتبا اوراصطفا کے مراتب پر پہنچتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام کا گروہ ایسے پاک سلسلہ میں سے ہوتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ جاری ہے۔دنیا ایسے لوگوں سے خالی نہیں۔بعض لوگ دعا کی در خواست کرتے ہیں کہ میرے لئے دعا کرو مگر افسوس ہے کہ وہ دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے۔عنایت علی نے دعا کی ضرورت سمجھی اور خواجہ علی کو بھیج دیا کہ آپ جاکر دعا کرائیں۔کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا جب تک دعا کرانے والااپنے اندر ایک صلاحیت اوراتباع کی عادت نہ ڈالے دعا کارگر نہیں ہوسکتی۔مریض اگر طبیب کی اطاعت ضروری نہیں سمجھتا ممکن نہیں کہ فائدہ اُٹھا سکے۔جیسے مریض کو ضروری ہے کہ استقامت اور استقلال کے ساتھ طبیب کی رائے پرچلے تو فائدہ اُٹھائے گا۔ایسے ہی دعا کرانے والے کے لئے آداب اور طریق ہیں۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک بزرگ سے کسی نے دعا کی خواہش کی۔بزرگ نے فرمایا کہ دودھ چاول لائو۔وہ شخص حیران ہوا۔آخر وہ لایا۔بزرگ نے دعا کی اور اس شخص کا کام ہو گیا۔آخر اسے بتلایا گیا کہ یہ صرف تعلق پیدا کرنے کے لئے تھا۔ایسا ہی باوافرید صاحب کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ایک شخص کا قبالہ گم ہوا اور وہ دعا کے لئے آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے حلوہ کھلائو اور وہ قبالہ حلوائی کی دو کان سے مل گیا۔ان باتوں کے بیان کرنے سے میرا یہ مطلب ہے کہ جب تک دعا کرنے والے اور کرانے والے میں ایک تعلق نہ ہو متاثر نہیں ہوتی۔غرض جب تک اضطرار کی حالت پیدا نہ ہو اور دعا کرنے والے کا قلق دعا کرانے والے کا قلق نہ ہو جائے کچھ اثرنہیں کرتی۔بعض اوقات یہی مصیبت آتی ہے کہ لوگ دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے اور دعا کا کوئی بیّن فائد ہ محسوس نہ کرکے خدائے تعالیٰ پر بدظن ہو جاتے ہیں اور اپنی حالت کو قابلِ رحم بنالیتے ہیں۔بالآخر میں کہتا ہوں کہ خود دعا کرو یا دعا کرائو۔پاکیزگی اور طہارت پیدا کرو۔استقامت چاہو اور توبہ کے ساتھ گر جائو کیونکہ یہی استقامت ہے۔اس وقت دعا میں قبولیت، نماز میں لذّت پیدا ہو گی۔ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ۔۱ ۱ (منقول از ٹریکٹ بعنوان ’’حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدۃ الوجود پر ایک خط‘‘ مرتّبہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ)