ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 143

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۳ جلد چهارم اللہ تعالیٰ پر ان کو کامل ایمان اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا (المؤمن : ۵۲) ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے میں کہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیوں کر مدد کر سکتا ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ حقیقی معاون و ناصر وہی پاک ذات ہے جس کی شان ہے نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ الْوَكِيلُ وَ نِعْمَ النَّصِيرُ ۔ دنیا اور دنیا کی مدد یں ان لوگوں کے سامنے کالمیت ہوتی ہیں اور مردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں لیکن دنیا کو دعا کا ایک موٹا طریق بتلانے کے لیے وہ یہ راہ بھی اختیار کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں اپنے کاروبار کا متولی خدا تعالیٰ ہی کو جانتے ہیں اور یہ بات بالکل سچ ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِينَ (الاعراف: ۱۹۷) ۔ اللہ تعالیٰ ان کو مامور کر دیتا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو دوسروں کے ذریعے سے ظاہر کریں۔ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف مقامات پر مدد کا وعظ کرتے تھے اسی لیے کہ وہ وقت نصرت الہی کا تھا۔ اس کو تلاش کرتے تھے کہ وہ کس کے شامل حال ہوتی ہے ۔ یہ ایک بڑی غور طلب بات ہے ۔ دراصل مامور من اللہ لوگوں سے مدد نہیں مانگتا بلکہ مَنْ اَنْصَارِی الی اللہ کہہ کر وہ اس نصرت الہیہ کا استقبال کرنا چاہتا ہے اور ایک فرط شوق سے بے قراروں کی طرح اس کی تلاش میں ہوتا ہے۔ نادان اور کوتاہ اندیش لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں سے مدد مانگتا ہے بلکہ اس طرح پر اس شان میں وہ کسی دل کے لیے جو اس نصرت کا موجب ہوتا ہے ایک برکت اور رحمت کا موجب ہوتا ہے۔ پس ما مور من اللہ کی طلب امداد کا اصل سر اور راز یہی ہے جو قیامت تک اسی طرح پر رہے گا۔ اشاعت دین میں مامور من اللہ دوسروں سے امداد چاہتے ہیں مگر کیوں؟ اپنے ادائے فرض کے لئے تا کہ دلوں میں خدا تعالیٰ کی عظمت کو قائم کریں ورنہ یہ تو ایک ایسی بات ہے کہ قریب بہ کفر پر نچ جاتی ہے اگر غیر اللہ کو متوتی قراردیں اور ان نفوس قدسیہ سے ایسا امکان محال مطلق ہے۔ میں نے ابھی کہا ہے کہ توحید تبھی پوری ہوتی ہے کہ کل مرادوں کا معطی اور تمام امراض کا چارہ اور مداوا وہی ذات واحد ہو لا اله الا الله کے معنے یہی ہیں ۔ صوفیوں نے اس میں اللہ کے لفظ سے محبوب ، مقصود، معبود مراد لی ہے بے شک اصل اور سچ یونہی ہے جب تک انسان کامل طور پر کار بند نہیں ہوتا اس میں اسلام