ملفوظات (جلد 4) — Page 143
اللہ تعالیٰ پر ان کو کامل ایمان اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا (المؤمن:۵۲) ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے میں کہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیوںکر مدد کرسکتا ہے۔اصل بات یہی ہے کہ حقیقی معاون و ناصر وہی پاک ذات ہے جس کی شان ہے نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ وَ نِعْمَ النَّصِيْرُ۔دنیا اور دنیا کی مددیں ان لوگوں کے سامنے کا لمیّت ہوتی ہیں اور مُردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں لیکن دنیا کو دعا کا ایک موٹا طریق بتلانے کے لیے وہ یہ راہ بھی اختیارکرتے ہیں۔وہ حقیقت میں اپنے کاروبار کا متولّی خدا تعالیٰ ہی کو جانتے ہیں اور یہ بات بالکل سچ ہے وَھُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ (الاعراف:۱۹۷)۔اللہ تعالیٰ ان کو مامور کر دیتاہے کہ وہ اپنے کاروبار کو دوسروںکے ذریعے سے ظاہر کریں۔ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف مقامات پر مدد کا وعظ کرتے تھے اسی لیے کہ وہ وقت نصرت الٰہی کا تھا۔اس کو تلاش کرتے تھے کہ وہ کس کے شاملِ حال ہوتی ہے۔یہ ایک بڑی غور طلب بات ہے۔دراصل مامور من اللہ لوگوںسے مدد نہیں مانگتا بلکہ مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ کہہ کر وہ اس نصرتِ الٰہیہ کا استقبال کرنا چاہتا ہے اور ایک فرطِ شوق سے بے قراروں کی طرح اس کی تلاش میں ہوتا ہے۔نادان اور کوتا ہ اندیش لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں سے مدد مانگتا ہے بلکہ اس طرح پر اس شان میں وہ کسی دل کے لیے جو اس نصرت کا مو جب ہوتا ہے ایک برکت اور رحمت کا موجب ہوتا ہے۔پس مامور من اللہ کی طلب امداد کا اصل سِرّ اور راز یہی ہے جو قیامت تک اسی طرح پر رہے گا۔اشاعتِ دین میں مامور من اللہ دوسروں سے امداد چاہتے ہیں مگر کیوں؟ اپنے ادائے فرض کے لئے تاکہ دلوں میں خدا تعالیٰ کی عظمت کو قائم کریں ورنہ یہ تو ایک ایسی بات ہے کہ قریب بہ کفر پہنچ جاتی ہے اگر غیر اللہ کو متولّی قرار دیں اور ان نفوسِ قدسیہ سے ایسا امکان محالِ مطلق ہے۔میں نے ابھی کہا ہے کہ توحید تبھی پوری ہوتی ہے کہ کل مرادوں کا معطی اور تمام امراض کا چارہ اور مداوا وہی ذات واحد ہو لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کے معنے یہی ہیں۔صوفیوں نے اس میں اِلٰہٌ کے لفظ سے محبوب، مقصود، معبود مراد لی ہے بے شک اصل اور سچ یونہی ہے جب تک انسان کامل طور پر کار بند نہیں ہوتا اس میں اسلام