ملفوظات (جلد 4) — Page 142
ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مر د ایسی حالت میں اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا بلکہ بعض اوقات ایسی وارداتیں ہو جاتی ہیں ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کی ہے۔جب عبو دیت اور دعا خاص اسی ذات کے مدّ مقابل ہیں وہ پسند نہیں کرسکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جائے یا پکارا جائے۔پس خوب یاد رکھو اور پھریاد رکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔نماز اور توحید کچھ ہی ہو (کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے) اسی وقت بے برکت اور بے سُود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلّل کی رُوح اورحنیف دل نہ ہو!!سنو! وہ دعا جس کے لئے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) فرمایا ہے اس کے لئے یہی سچی رُوح مطلوب ہے اگر اس تضرّع اور خشوع میں حقیقت کی رُوح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسباب کی رعایت ضروری نہیں ہے؟ یہ ایک غلط فہمی ہے۔شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے۔اور سچ پوچھو تو کیا دعا اسباب نہیں ہے؟ یااسباب دعا نہیں؟ تلاش اسباب بجائے خود ایک دعا ہے او ردعا بجائے خود عظیم الشان اسباب کا چشمہ!!! انسان کی ظاہری بناوٹ اس کے دو ہاتھ دو پاؤں کی ساخت ایک دوسرے کی امداد کا رہنما ہے۔جب یہ نظارہ خود انسان میں موجود ہے پھر کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ وہ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى (المائدۃ: ۳ ) کے معنے سمجھنے میں مشکلات کو دیکھے ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ تلاش اسباب بھی بذریعہ دعا کرو۔امداد باہمی میں نہیں سمجھتا کہ جب میں تمہارے جسم کے اندر اللہ تعالیٰ کا ایک قائم کردہ سلسلہ اور کامل رہنما سلسلہ دکھاتا ہوں تم اس سے انکار کرو۔اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اور بھی صاف کرنے اور وضاحت سے دنیا پر کھول دینے کے لیے انبیاء علیہم السلام کا ایک سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا اور قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دے مگر پھر بھی ایک وقت ان پر آتا ہے کہ و ہ مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ (اٰل عـمران:۵۳) کہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔کیا وہ ایک ٹکر گدا فقیر کی طرح بولتے ہیں، نہیں مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ کہنے کی بھی ایک شان ہوتی ہے۔وہ دنیا کو رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں جو دعا کا ایک شعبہ ہے ورنہ