ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 141

انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت و سکون تک کو اسی انجن کی طاقت عظمیٰ کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیوں کر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہوسکتا ہے؟ اور اپنے آپ کواِنِّيْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (الانعام:۸۰) کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے مُنہ سے کہتا ہے دل سے بھی اُدھر کی طرف متوجہ ہو تو لا ریب وہ مسلم ہے۔وہ مومن اور حنیف ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے وہ یاد رکھے کہ بڑا ہی بد قسمت اور محروم ہے کہ اس پر وہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے۔ترکِ نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ ہے کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جھکتا ہے تو روح اور دل اس کی طرف جھکتا ہے تو روح اور دل کی طاقتیں (اس درخت کی طرح جس کی شاخیں ابتداءً ایک طرف کر دی جائیں اور پر ورش پالیں) ادھر ہی جھکتا ہےاور خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیداہو کر اسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے۔جیسے وہ شاخیں پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتیں۔اسی طرح پر وہ دل اور رُوح دن بدن خدائے تعالیٰ سے دور ہوتے جاتے ہیں۔پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔اسی لیے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تاکہ اوّلًاوہ ایک عادت راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔پھر رفتہ رفتہ وہ وقت آجاتا ہے کہ انقطاعِ کلّی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذّت کا وارث ہو جاتا ہے۔میں اس اَمرکو پھر تاکید سے کہتا ہوں۔افسوس ہے مجھے وہ لفظ نہیں ملتے جس میں میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بُرا ئیاں بیان کرسکوں۔لوگوں کے پاس جا کر منت و خوشامد کرتے ہیں۔یہ بات خدائے تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے (کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے)پس وہ اس سے ہٹتا اور اُسے دور پھینک دیتاہے۔میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں گو یہ اَمر اس طرح پر نہیں ہے مگر فوراً سمجھ میں آ سکتا ہے کہ جیسے ایک مَردِ غیورکی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیداکرتے