ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 137

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۷ جلد چهارم جوڑے سے زیادہ رنج و مصائب کا نشانہ بنتا ہے جیسا کہ عورت اور مرد کے جوڑے سے ایک قسم کی بقا کے لیے حظ ہے اسی طرح پر عبودیت اور ربوبیت کے جوڑے میں ایک ابدی بقا کے لیے حظ موجود ہے۔ صوفی کہتے ہیں کہ یہ حظ جس کو نصیب ہو جائے وہ دنیا اور مافیہا کے تمام حظوظ سے بڑھ کر ترجیح رکھتا ہے۔ اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اُس کو معلوم ہو جائے تو وہ اس میں ہی فنا ہو جائے۔ لیکن مشکل تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اس راز کو نہیں سمجھا اور ان کی نمازیں نری ٹکریں ہیں اور اوپرے دل کے ساتھ ایک قسم کی قبض اور تنگی سے صرف نشت و برخاست کے طور پر ہوتی ہیں۔ مجھے اور بھی افسوس ہوتا ہے کہ جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اس لیے نمازیں پڑھتے ہیں کہ وہ دنیا میں معتبر اور قابل عزت سمجھے جائیں اور پھر اس نماز سے یہ بات ان کو حاصل بھی ہو جاتی ہے یعنی وہ نمازی اور پر ہیز گار کہلاتے ہیں پھر کیوں ان کو یہ کھا جانے والا غم نہیں لگتا کہ جب جھوٹ موٹ اور بے دلی کی نماز سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہو سکتا ہے تو کیوں ایک سچے عابد بننے سے ان کو عزت نہ ملے گی اور کیسی عزت ملے گی ۔ غرض میں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور شست اسی لیے ہوتے ہیں کہ ان کو اس لذت اور سرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ کسل کی یہی ہے۔ پھر شہروں اور گاؤں میں تو اور بھی سستی اور غفلت ہوتی ہے۔ سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتے ، پھر سوال یہی ہوتا ہے کیوں ان کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی اس مزے کو انہوں نے چکھا۔ اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذن اذان دے دیتا ہے۔ پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے ۔ گویا ان کے دل دُکھتے ہیں۔ یہ لوگ بہت ہی قابلِ رحم ہیں ۔ بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دوکانیں دیکھو تو مسجد کے نیچے ہیں مگر کبھی جا کر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔ پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ یہ دعا دعا مانگنی ۔