ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 136

عبادتِ الٰہی سے لذّت نہیں پا سکتا۔عورت اورمَرد کا جوڑا تو باطل اور عارضی جوڑا ہے۔میں کہتا ہوں حقیقی ابدی اور لذّت مجسم جو جوڑا ہے وہ انسان اور خدائے تعالیٰ کا ہے۔مجھے سخت اضطراب ہوتا اور کبھی کبھی یہ رنج میری جان کو کھانے لگتا ہے کہ ایک دن اگر کسی کو روٹی یا کھانے کا مَزا نہ آئے، طبیب کے پاس جاتا اورکیسی کیسی منتیں اور خوشامدیں کرتا اور روپیہ خرچ کرتا اور دُکھ اُٹھاتا ہے کہ وہ مَزا حاصل ہو۔وہ نا مر د جو اپنی بیوی سے لذّت حاصل نہیں کرسکتابعض اوقات گھبرا گھبراکر خود کشی کے ارادے تک پہنچ جاتا ہے اور اکثر موتیں اس قسم کی ہو جاتی ہیں۔مگر آہ! وہ مریضِ دل وہ نا مَردکیوں کوشش نہیں کرتاجس کو عبادت میں لذّت نہیں آتی اس کی جان کیوں غم سے نڈھال نہیں ہو جاتی؟دُنیا اور اس کی خوشیوں کے لئے تو کیا کچھ کرتا ہے مگر ابدی اور حقیقی راحتوں کی وہ پیاس اور تڑپ نہیں پا تا۔کس قدر بے نصیب ہے۔کیسا ہی محروم ہے! عارضی اور فانی لذتوں کے علاج تلاش کرتا ہے اور پا لیتا ہے۔کیا ہوسکتا ہے کہ مستقل اور ابدی لذّت کے علاج نہ ہوں؟ ہیں اور ضرورہیں۔مگر تلاشِ حق میں مستقل اور پویہ قدم در کار ہیں قرآنِ کریم میں ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے صالحین کی مثال عورتوںسے دی ہے۔اس میں بھی سِر اور بھید ہے۔ایمان لانے والے کو آسیہ اور مریم سے مثال دی ہے۔یعنی خدائے تعالیٰ مشرکین میں سے مومنوں کو پیدا کرتا ہے۔بہرحال عورتوں سے مثال دینے میں دراصل ایک لطیف راز کا اظہار ہے یعنی جس طرح عورت اور مَرد کا باہم تعلّق ہوتا ہے اسی طرح پر عبو دیت اور ربوبیت کا رشتہ ہے۔اگر عورت اور مَرد کی باہم موافقت ہو اور ایک دوسرے پر فر یفتہ ہو تووہ جوڑا ایک مبارک اور مفید ہوتا ہے ورنہ نظامِ خانگی بگڑ جاتا ہے اور مقصود بالذّات حاصل نہیں ہوتا ہے۔مَرد اور جگہ خراب ہوکر صدہا قسم کی بیماریاں لے آتے ہیں۔آتشک سے مجذوب ہوکر دنیا میں ہی محروم ہوجاتے ہیں۔اور اگر اولاد ہوبھی جائے تو کئی پُشت تک یہ سلسلہ چلا جاتا ہے اور اُدھر عورت بے حیائی کرتی پھرتی ہے اور عزّت وآبرو کو ڈبوکر بھی سچی راحت حاصل نہیں کرسکتی۔غرض اس جوڑے سے الگ ہوکر کس قدر بد نتائج اور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح پر انسان روحانی جوڑے سے الگ ہوکر مجذوب اور مخذول ہوجاتا ہے دُنیاوی