ملفوظات (جلد 4) — Page 130
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۰ جلد چهارم باتوں کو رڈ کر دے گا اور سچ کو لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا نام حکم رکھا گیا ہے۔ اسی لیے آثار میں آیا ہے کہ اُس پر کفر کا فتوی دیا جاوے گا کیونکہ وہ جس فرقہ کی باتوں کو رڈ کرے گا وہی اُس پر کفر کا فتویٰ دے گا۔ یہاں تک کہا ہے کہ مسیح موعود کے نزول پر ایک شخص اُٹھ کر کھڑا ہوگا اور منبر پر چڑھ کر کہے گا إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ غَير ديننا اس شخص نے ہمارے دین کو بدل دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت اس امر کا ہو گا کہ وہ بہت سی باتوں کو رد کر دے گا جیسا کہ اُس کا منصب اُس کو اجازت دے گا۔ غرض اس بات کو سرسری نظر سے ہر گز نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ غور کرنا چاہیے کہ حکم عدل کا آنا اور اس کا نام دلالت کرتا ہے کہ وہ اختلاف کے وقت آئے گا اور اس اختلاف کو مٹائے گا۔ ایک کورڈ کرے گا اور اندرونی غلطیوں کی اصلاح کرے گا۔ وہ اپنے نور فراست اور خدا تعالیٰ کے اعلام والہام سے بعض ڈھیروں کے ڈھیر جلا دے گا اور پکی اور محکم با تیں رکھ لے گا۔ جب یہ مسلم امر ہے تو پھر مجھ سے یہ امید کیوں کی جاتی ہے کہ میں ان کی ہر بات مان لوں قطع نظر اس کے کہ وہ غلط اور بیہودہ ہے۔ اگر میں ان کا سارا رطب و یا بس مان لوں تو پھر میں حکم کیسے ٹھہر سکتا ہوں؟ یہ ممکن ہی نہیں ۔ افسوس یہ لوگ دل رکھتے ہیں کشف حقیقت کے لئے اللہ تعالیٰ سے توفیق چاہیں پھر سوچتے نہیں آنکھیں رکھتے ہیں مگر دیکھتے نہیں ، کان رکھتے ہیں پر سنتے نہیں۔ ان کے لئے بہترین راہ اب یہی ہے کہ وہ رو رو کر دعائیں کریں اور میرے متعلق کشف الحقیقت کے لئے اللہ تعالیٰ ہی سے توفیق چاہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص محض احقاق حق کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے گا وہ میرے معاملہ کی سچائی پر خدا تعالیٰ سے اطلاع پائے گا اور اُس کا زنگ دور ہو جائے گا۔ بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جو دلوں کو کھولے اور کشف حقائق کی قوت عطا کرے۔ اسلام اس وقت مصیبت کی حالت میں ہے اور وہ ایک فنا شدہ قوم کی حالت اختیار کر چکا ہے۔ ایسی حالت اور صورت میں ان لوگوں پر مجھے رونا آتا ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام کی اس تباہ شدہ حالت کی اصلاح کے لئے کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔ یہ