ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 130

باتوں کو ردّ کر دے گا اور سچ کو لے گا۔یہی وجہ ہے کہ اس کانام حَکَم رکھا گیا ہے۔اسی لیے آثار میں آیا ہے کہ اُس پر کُفر کا فتویٰ دیا جاوے گا کیونکہ وہ جس فرقہ کی باتوں کو ردّ کرے گا وہی اُس پر کُفر کا فتویٰ دے گا۔یہاں تک کہاہے کہ مسیح موعود کے نزول پر ایک شخص اُٹھ کر کھڑا ہوگا اور منبر پر چڑھ کر کہے گا اِنَّ ھٰذَاالرَّجُلَ غَیَّرَ دِیْنَنَا اس شخص نے ہمارے دین کو بدل دیا ہے۔اس سے بڑھ کر اَور کیا ثبوت اس اَمر کا ہوگا کہ وہ بہت سی باتوں کو ردّ کر دے گا جیسا کہ اُس کا منصب اُس کو اجازت دے گا۔غرض اس بات کو سرسری نظر سے ہرگز نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ غور کرنا چاہیے کہ حَکَم عدل کا آنا اور اس کا نام دلالت کرتا ہے کہ وہ اختلاف کے وقت آئے گا اور اس اختلاف کو مٹائے گا۔ایک کو ردّ کرے گا اور اندرونی غلطیوںکی اصلاح کرے گا۔وہ اپنے نورِ فراست اور خدا تعالیٰ کے اعلام والہام سے بعض ڈھیروں کے ڈھیر جلادے گا اور پکی اور محکم باتیں رکھ لے گا۔جب یہ مسلّم اَمر ہے تو پھر مجھ سے یہ اُمید کیوں کی جاتی ہے کہ میں ان کی ہربات مان لوں قطع نظر اس کے کہ وہ غلط اور بیہودہ ہے۔اگر میں ان کا سارا رطب ویابس مان لوں تو پھر میں حَکَم کیسے ٹھہر سکتا ہوں؟ یہ ممکن ہی نہیں۔کشفِ حقیقت کے لئے اللہ تعالیٰ سے توفیق چاہیں افسوس یہ لوگ دل رکھتے ہیں پھر سوچتے نہیں، آنکھیں رکھتے ہیں مگردیکھتے نہیں، کان رکھتے ہیں پر سنتے نہیں۔ان کے لئے بہترین راہ اب یہی ہے کہ وہ رو رو کر دعائیں کریں اور میرے متعلق کشف الحقیقت کے لئے اللہ تعالیٰ ہی سے توفیق چاہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص محض احقاقِ حق کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے گا وہ میرے معاملہ کی سچائی پر خدا تعالیٰ سے اطلاع پائے گا اور اُس کا زنگ دور ہو جائے گا۔بجزاللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جو دلوں کو کھولے اور کشفِ حقائق کی قوت عطا کرے۔اسلام اس وقت مصیبت کی حالت میں ہے اور وہ ایک فناشدہ قوم کی حالت اختیار کر چکا ہے۔ایسی حالت اور صورت میں ان لوگوں پر مجھے رونا آتاہے جو کہتے ہیں کہ اسلام کی اس تباہ شدہ حالت کی اصلاح کے لئے کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔یہ