ملفوظات (جلد 4) — Page 129
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۹ جلد چهارم بنایا گیا ہے کیا اس کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا ؟ خدا تعالیٰ جو اُس کا نام حکم رکھتا ہے یہ نام ہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ سارا رطب و یابس جو اُس کے سامنے پیش کیا جاوے گا تسلیم نہیں کرے گا بلکہ بہت سی باتوں کو رڈ کر دے گا اور جو صحیح ہوں گی ان کے صحیح ہونے کا وہ فیصلہ دے گا ورنہ حکم کے معنے ہی کیا ہوئے ۔ جب اس کی کوئی بات ماننی ہی نہیں تو اُس کے حکم ہونے سے فائدہ کیا؟ حکم کا لفظ صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت اختلاف ہوگا اور مسیح موعود بطور حکم و عدل ۷۳ فرقے موجود ہوں گے اور ہر فرقہ اپنے مسلمات کو جو اس نے بنارکھے ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ جھوٹے ہیں یا خیالی ، چھوڑ نا نہیں چاہتا بلکہ ہر ایک اپنی جگہ یہ چاہے گا کہ اس کی بات ہی مانی جاوے اور جو کچھ وہ پیش کرتا ہے وہ سب تسلیم کر لیا جاوے ایسی صورت میں اس حکم کو کیا کرنا ہوگا۔ کیا وہ سب کی باتیں مان لے گا یا یہ کہ بعض رڈ کرے گا اور بعض کو تسلیم کرے گا۔ غیر مقلد تو راضی نہیں ہوگا جب تک اس کی پیش کردہ احادیث کا سارا مجموعہ وہ نہ مان لے اور ایسا ہی حنفی، معتزلہ، شیعہ وغیرہ گل فرقے تو تب ہی اُس سے راضی ہوں گے کہ وہ ہر ایک کی بات تسلیم کرے اور کوئی بھی رڈ نہ کرے اور یہ نامکن ہے۔ اگر یہ ہو کہ کوٹھڑی میں بیٹھا رہے گا اور اگر شیعہ اس کے پاس جاوے گا تو اندر ہی اندر مخفی طور پر اسے کہہ دے گا کہ تو سچا ہے اور پھر سنی اُس کے پاس جاوے گا تو اُس کو کہہ دے گا کہ تو سچا ہے۔ اور اسی طرح پر جو اس کے پاس جاوے گا اس کو کہہ دے گا کہ تو سچا ہے تو پھر تو بجائے حکم ہونے کے وہ پکا منافق ہوا اور بجائے وحدت کی روح پھونکنے کے اور سچا اخلاص پیدا کرنے کے وہ نفاق پھیلانے والا ٹھہرا۔ مگر یہ بالکل غلط ہے۔ آنے والا موعود حکم واقعی حکم ہوگا۔ اُس کا فیصلہ قطعی اور یقینی ہوگا۔ اس کے فیصلہ میں ایک ہے نہیں۔ ایک نقل مشہور ہے کہ کسی عورت کی دولڑکیاں تھیں ایک بیٹ میں بیاہی ہوئی تھی اور دوسری بانگر میں، اور وہ ہمیشہ یہ سوچتی رہتی تھی کہ دو میں سے ایک ہے نہیں۔ اگر بارش زیادہ ہو گئی تو بیٹ والی نہیں ہے اور اگر نہ ہوئی تو بانگر والی نہیں ہے۔ یہی حال حکم کے آنے پر ہونا چاہیے۔ وہ خود ساختہ اور موضوع