ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 128

توحید کو پھیلایا۔نہ یہ جواب دیتے کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی اس وقت تو خود نگران تھا۔کیا قیامت کے دن حضرت مسیح جھوٹ بولیں گے؟ ان عقائد کی شناخت کہاں تک بیان کی جاوے جس پہلو اور مقام سے دیکھو قرآن شریف کی مخالفت نظر آوے گی۔پھر یہ اَمر بھی قابل لحاظ ہے کہ دیکھا جاوے حضرت مسیح آسمان پر جاکر کہاں بیٹھے ہیں؟ تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ وہاں جا کر یحییٰ علیہ السلام کے پاس بیٹھے ہیں اور یحییٰ علیہ السلام بالاتفاق وفات یافتہ ہیں۔پھر مُردوں میں زندہ کا کیا کام ہے؟ غرض کہاں تک بیان کروں ایک غلطی ہو تو آدمی بیان کرے یہاں تو غلطیاں ہی غلطیاںبھری پڑی ہیں۔باوجود ان غلطیوں کے تعصّب اور ضِدّ بڑھی ہوئی ہے اور اس ضد کے سبب سچ کے قبول کرنے میں عذر کر رہے ہیں۔ہاں جس جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا ہے اور اس کے حصہ میں سعادت ہے وہ سمجھ رہاہے اور اس طرف آتا جاتا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے نیکی چاہتا ہے اس کے دل میں واعظ پیدا کر دیتا ہے جب تک دل میں واعظ نہ ہو کچھ نہیں ہوتا۔اگر خدا کے قول کے خلاف کوئی قول ہوتو خدا کو اس خلافِ قول کے ماننے میں کیا جواب دے گا۔احادیث کی تصحیح و تغلیط بذریعہ کشف احادیث کے متعلق خود یہ تسلیم کر چکے ہیں۔خصوصاً مولوی محمدحسین اپنے رسالہ میں شائع کر چکا ہے کہ اہلِ کشف احادیث کی صحت بذریعہ کشف کرلیتے ہیں اور اگر کوئی حدیث محدّثین کے اُصولوں کے موافق صحیح بھی ہوتو اہلِ کشف اسے موضوع قرار دے سکتے ہیں اور موضوع کو صحیح ٹھہرا سکتے ہیں۔۱ جس حال میں اہلِ کشف احادیث کی صحت کے اس معیار کے پابند نہیں جو محدّثین نے مقرر کیا ہے بلکہ وہ بذریعہ کشف ان کی صحیح قراردادہ احادیث کو موضوع ٹھہرانے کا حق رکھتے ہیں تو پھر جس کو حَکم ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۹۰۲ء صفحہ ۱تا۳