ملفوظات (جلد 4) — Page 127
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۷ جلد چهارم کی حیات کو جو شخص بیان نہیں کرتا وہ میرے نزدیک کافر ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جس نبی کی اُمت کہلاتے ہیں اسی کو معاذ اللہ مردہ کہتے ہیں اور اسی نبی کو جس کی اُمت کا خاتمہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ (البقرۃ: ۶۲) پر ہوا ہے اس کو زندہ کہا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ کی قوم یہودی تھی اور اس کی نسبت خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ (البقرة: ٦٢ ) - اب قیامت تک ان کو عزت نہ ملے گی ۔ اب اگر حضرت عیسیٰ پھر آگئے تو پھر گویا ان کی کھوئی ہوئی عزت بحال ہو گئی اور قرآن شریف کا یہ حکم باطل ہو گیا۔ جس پہلو اور حیثیت سے دیکھو جو کچھ وہ مانتے ہیں اس پہلو سے قرآن کریم کا ابطال اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین لازم آتی ہے۔ پھر تعجب ہے کہ یہ لوگ مسلمان کہلا کر ایسے اعتقادات رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو یہود کے لیے فتوی دیتا ہے کہ ان میں نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور وہ ذلیل ہو گئے پھر ان میں زندہ نبی کیسے آسکتا ہے؟ ایک مسلمان کے لیے تو اتنا ہی کافی ہے کہ جب اس کے سامنے قرآن شریف پیش کیا جاوے تو وہ انکار کے لیے لب کشائی نہ کرے مگر یہ قرآن سنتے ہیں اور پڑھتے ہیں وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جاتا ورنہ کیا یہ کافی نہ تھا کہ قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى (ال عمران: ۵۶) اور اس سے بڑھ کر خود حضرت مسیح کا اپنا اقرار موجود ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ انْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ (المائدة: ۱۱۸) اور یہ قیامت کا واقعہ ہے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوگا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا بناؤ ؟ تو حضرت عیسی علیہ السلام اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب تک میں ان میں زندہ تھا میں نے تو نہیں کہا اور میں وہی تعلیم دیتا رہا جو تو نے مجھے دی تھی لیکن جب تو نے مجھے وفات دے دی اس وقت تو ہی ان کا نگہبان تھا اب یہ کیسی صاف بات ہے۔ اگر یہ عقیدہ صحیح ہوتا کہ حضرت مسیح کو دنیا میں قیامت سے پہلے آنا تھا تو پھر یہ جواب ان کا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ اُن کو تو کہنا چاہیے تھا کہ میں دنیا میں جب دوبارہ گیا تو اس وقت صلیب پرستی کا زور تھا اور میری الوہیت اور اہنیت پر بھی شور مچا ہوا تھا مگر میں نے جا کر صلیبیوں کو توڑا اور خنزیروں کو قتل کیا اور تیری